تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 413 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 413

۳۹۵ پولیس کے بڑے آفیسر کو میرے پتے پر میرے مکان پر یہ کہلا کر بھیجا کہ اس اشتہار کو جو تم نے شائع کیا ہے اس کو فورا تمام درو دیوار سے اتار دو ورنہ تمہیں گر فتار کیا جائے گا۔اس زمانہ میں خواجہ کمال الدین صاحب وکیل اور کالی پرسن ایک بنگالی وکیل۔ان دونوں کو میں نے اس مقدمہ کی پیروی کے لئے مقرر کر لیا۔والد صاحب بزرگوار چونکہ نہایت ہی رقیق القلب تھے انہوں نے سمجھا کہ شاید میرے بیٹے کو کہیں قید ہی نہ کر لیا جائے اور کوئی سزا ہی نہ دی جائے۔رات دن روتے رہتے تھنے اور مجھ سے کہتے تھے کہ تم نے ایسا اشتہار کیوں نکالا۔مگر میرے دل کے اندر اس قدر خوشی اور اس قدر مسرت اور اس قدر جوش تھا کہ میں والد صاحب بزرگوار سے عرض کہتا تھا کہ آپ گھیرائیں نہیں اللہ تعالیٰ بہت بڑا فضل کرنے والا ہے۔اُدھر حضرت امام سیدنا مسیح موعود اس اشتہار کو دیکھ کر بڑے خوش تھے۔اور ہر تاریخ پر جو اس مقدمہ کی ہوا کرتی تھی میں حضرت صاحب کے پاس جایا کرتے تا تھا۔اور وہ بھی اس قدر خوش تھے کہ میں ان کی خوشی کو بیان نہیں کر سکتا۔صبح کی سیر کے وقت جب حضرت مسیح موعود دوستوں کے ہمراہ جایا کرتے تھے تو ڈاکٹر نور محمد نے جو کہ کوچہ چڑیماریاں لاہور۔لوہاری دروازہ میں رہا کرتے تھے آگے بڑھ کر حضرت سے عرض کیا کہ حضور اگر فرمائیں تو میں بھی اس کا اشتہار دوں اور محمد حسین کے ساتھ میں بھی ان کے اس مقدمہ میں شریک ہو جاؤں ، تو حضرت نے بڑی نفرت سے فرمایا کہ آپ ہرگزہ یہ اشتہار نہیں نکال سکتے۔جس کا حصہ تھا اللہ تعالے نے اسی سے یہ کام کرایا ہے۔اس اشتہار کے واقعات بہت ہی عجیب ہیں۔سیالکوٹ اور لاہور کی اخباروں میں اس مقدمے کا اتنا چہ چا ہوا کہ حمد ہی ہوگئی۔اخباروں نے اس بات پر زور دیا کہ امہات المومنین جو عیسائیوں نے شائع کی ہے۔جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات اور حضور کی خانگی زندگی پر نہایت ناپاک اور دور از صداقت جو حملے کئے گئے ہیں ان کے مقابل پر اشتہار عیسائیوں کے لئے ایک سبق ہے۔ان کو اس اشتہار سے جو واقعات کے مطابق اور صحیح تاریخ کے ساتھ لکھا گیا ہے اور حق بات بیان کی گئی ہے اس قدر غیظ و غضب کیوں ہوا کہ تمام عیسائی پبلک ہی بغاوت کے لئے تیار ہو گئی۔فرض ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں ہم پہنچے۔خواجہ کمال الدین صاحب اور کالی پریس بنگالی میری طرف سے وکیل تھے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر کی خدمت میں یہ بیان کیا کہ اشتہار جو دیواروں پر لگ چکے ہیں وہ اتنی کثرت سے چسپاں ہیں کہ با وجود ساری جماعت احمدیہ کی کوشش کے ہم ان کو ایک دن