تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 409 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 409

۳۹۱ اور حضور کے دعوے پر حضرت میاں چراغ الدین صاحب مرحوم اور حضرت میاں فیروز الدین صاحب مرحوم نے حضور کی بیعت بھی کر لی تھی۔حضرت میاں چراغ الدین صاحب کئی بار بیان کیا کرتے تھے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب ان کے مکان پر فروکش ہوتے تو اکثر حضور ان سے یوں مخاطب ہوا کرتے تھے کہ میاں صاحب تو میرے بچپن کے رفیقوں میں سے نہایت پیارے رفیق ہیں جو خدا نے مجھے دیتے ہیں وغیرہ۔حضرت میاں چھراغ دین صاحب بچپن سے ہی صوفی منش ، سادگی پسند، مسکین طبع نیک دل اور باخدا انسان تھے۔حضرت حکیم محمد حسین صاحب مریم عیسی ، حضرت میاں چراغ الدین صاحب رئیس لاہور کے پہلے اور سب سے بڑے لڑکے تھے۔میاں چراغ الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ حکیم صاحب موصوف نے پیدائش کے بعد دو سال تک چلنا اور بولنا نہیں سیکھا تھا۔جس کی وجہ سے میاں چراغ دین صاحب کو سخت تشویش تھی۔جب حکیم صاحب کی عمر دو سال ہو گئی تو اتفاقا حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام کسی کام کے سلسلہ میں لاہور تشریف لائے اور میاں چراغ دین صاحب سے بھی ملے تو میاں چراغ دین صاحب حضرت اقدس کو گھر لے آئے اور اپنے بیٹے کو اٹھا کہ حضر مسیح موعود علیہ السلام کی گود میں ڈال کر عرض کیا کہ یہ بچہ نہ اب تک بولتا ہے اور نہ چلتا ہے حضور اس کے لئے دعا فرمائیں۔چنانچہ حضور نے ان کو گود میں لئے ہوئے لمبی دعا کی۔اور اس کے بعد میاں چراغ دین صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ فکر نہ کریں انشاء اللہ یہ سچہ بڑا بولنے والا ہو گا۔اور اپنی کثیر اولاد کی کئی نسلیں دیکھے گا۔چنانچہ اس کے بعد بہت جلد آپ نے بولنا اور چلنا شروع کر دیا۔آپ ساری عمر بلند آواز سے بولنے کے عادی تھے اور تبلیغ کرتے ہوئے کبھی تھکتے نہ تھے۔خدا نے آپ کو اپنی اولاد کی چار نسلیں دکھلائیں جو آپ کی وفات کے وقت سینکڑوں کی تعداد میں تھی اس طرح حضرت مسیح موعود عل الصلوة والسّلام کا فرمان حرف بحرف پورا ہوا ہے حضرت حکیم صاحب ۱۸۹ء میں داخل بیعت ہوئے اور حضرت مسیح موعود کی ہدایت پر ر ہم علیسی" کا اصل نسخہ تیار کر کے بڑی شہرت پائی اور ملک بھر میں مرہم عیسی ہی کے نام سے موسوم ہوئے۔چنانچہ آپ اپنی خود نوشت سوانح حیات میں لکھتے ہیں :- له الفضل - دسمبر 2ء ص ر مضمون ماسٹر نذیر حسین صاحب چغتائی)