تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 407
میں خوب ترقی کی۔آپ کے اخلاق حسنہ خاموش تبلیغ اور دعاؤں کے نتیجہ میں خدا کے فضل سے کئی سعید روحوں کو صداقت قبول کرنے کی توفیق ملی ہے چنانچہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی قاضی خیل ہوتی ضلع مردان سابق امیر جماعت سرحد تحر یہ فرماتے ہیں :۔" آپ کے توسط تبلیغ اور صحبت صالح سے آپ کے خالہ زاد بھائی محترم نذر علی خاں صاحب میرزا یوسف علی خانصاحب اور میرزا رجب علی خان صاحب پسران مرزا تو روز علی خان صاحب کشمیری محلہ چڑ وہ کو ہان پشاور اء میں احمدی ہوئے اور محترم میرزا نذر علی مرحوم نے شیعہ مذہب کی تردید میں کثرت سے مضامین اور رسائل شائع کئے۔آپ کے توسط سے میرزا شیر علی خان خلف میرزا رجب علی خان صاحب ساکن کوچه گل بادشاہ شہر پشاور جو سوات لیوی میں جمعدار تھے۔اور شیعہ سے احمدی ہوئے میرزا محمد سلطان صاحب اور میرزا محمد شریف خان اور صوفی محمد اسمعیل صاحب احمد کی ہوئے حضرت میرزا رمضان علی صاحب خطر نا نہایت حلیم الطبع ، بر دو بار ، صوفی منش مرنجان هر نیج انسان تھے تہجد خوان، پرہیز گار، خیر خواہ اور ہمدرد تھے۔قرآن کریم کی تلاوت کا بڑا شوق تھا۔محترم میرزا نذر علی خان بھی خوش الحان اور ذوق و شوق سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے آپ کی مجلس میں کشوف و رویا اور الہام کا تذکرہ رہتا اور خود بھی صاحب کشف و الہام تھے۔اکثر و عاون میں لگے رہتے بمستجاب الدعوات تھے۔۔۔آپ نے احمدیت کی وجہ سے ہر طرح کی اذیت صبر و تحمل سے بر داشت کی آپ کو صوفیت اور صوفیاء سے انس رہا ہے آپ کا جنازہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب نے پڑھایا اور آپ کو پشاور کے احمد یہ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔اولاد : (۱) میرزا عبدالواحد صاحب مرحوم - (۲) میرزا عبد اللہ جان صاحب مرحوم کے (۳) میرزا نثار احمد صاحب ن غیر مطبوعہ مکتوب میرزا نثار احمد صاحب فاروقی پشاور ده را پریل شواء ) - سه تاریخ احمدیه سر حد ما - (از حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمدیہ سرحد) مطبوعه منظور عام پریس پشاور سے یہ دونوں غیر شادی شده فرزند آپ کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے مگر آپ ہمیشہ راضی بقضا ہے اور نہایت میر وشکر سے یہ صدمات برداشت کئے ہے۔موصوف بقید حیات اور صاحب اولاد ہیں۔آپ کو حیلہ سالانہ اور بعض مرکزی اجتماعات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فارسی کلام سنانے کے کئی مواقع میسر آئے۔