تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 395 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 395

کہا کہ آپ اپنے اس عہدے سے ناجائزہ فائدہ نہ اٹھائیں میری حالت کو نفاق سے اگر کوئی دوسرا تعبیر کرتا تو بہت سخت جواب پاتا۔یہ کہہ کر میں اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنا اسباب ان کی مردانہ نشست سے اُٹھا کر اپنے مکان میں رکھ لیا۔دوسرے دن صبیح ہی کو انہوں نے معذرت کا پرچہ لکھا اور معافی کی خواہش کی۔نہیں نے ان کے محسن ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ادب و احترام سابق کو پیش کیا۔وہ میرے پاس فوراً آگئے اور زبانی عذر کرنے لگے میں نے وجہ عدم تحر یر خط بہت ہنوز ان سے مخفی رکھی جب آخر تو میر میں مدت قائم مقامی ختم ہو گئی میں نے اسی شب میں کہ صبح اس تحصیل کو چھوڑ رہا تھا ایک چو در قر خط اپنے مفصل حال کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھا اور عرض کیا کہ میرا ایمان ہے کہ حضور کا دھورا ہر حق اور صحیح ہے۔ہمیں ایسا ایسا گندہ دل اور بد افعال ہوں اور قوت توبۃ النصوح بھی نہیں رکھتا مجھے ڈر ہے کہ سلسلہ میں شامل ہو کر لوگوں کی ٹھوکر کا موجب نہ بنوں حضور مجھے سنبھال لیں تو دل و جان سے حاضر ہوں۔شرف بیعت بخشا جاوے حضور اقدس علیه الف الف صلوة والسلام نے قبولیت بیعت کا اظہار فرمایا اور استغفار، لا حول ولا قوة ، درود شریف اور الحمد شریف کثرت سے پڑھنے کی ہدایت فرمائی اور لکھا کہ اللہ تعالے آپ کے ساتھ ہو یہ خط لکھ کر مولوی صاحب مرحوم کو جو سات میل کے فاصلہ پر مصروف تحقیقات سرکاری تھے دے دیا اور عرض کیا کہ اس نے بیعت کو بدنام ہونے سے بچانا تھا۔حضرت کے اس آخری جملے کی بدولت صد بانشان اس گنہ گار نے معیت ایزدی کے دیکھے ہیں جو خود افسانہ کا حکم رکھتے ہیں اور اب تک دن رات دیکھتا ہوں۔یہ بیعت کا پروانہ آغاز دسمبر نتشار میں ملا تھا۔انشاء میں گورداسپور دوران مقدمہ کریم دین میں حضور علیہ السلام کی دست بوسی اور زیارت نصیب ہوئی ۲۴ روز حضور کے دربار میں حاضر رہا۔کئی درخواستوں کے مسترد ہونے پر جون ستاد کو ہمراہی مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بٹالہ ریل کے ذریعہ قادیان شریف دار الامان حقیقی کی زیارت نصیب ہوئی کہ یہ ہے میری بیعت کی ابتدائیہ الحكم قادیان ، اکتوبر ۱۹۳۳ء منار