تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 394 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 394

نے سورۂ مزمل کی آیت کریمیہ مَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً۔دلیل پیش کی جرح پر کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے بلکہ کچھ چشمگیں ہو گئے۔مجھے یہ خلش تھی۔ازالہ اوہام کے مطالعہ نے تسکین کر دی اور بیعت کا سوال دل میں فوراً پیدا ہو گیا۔میں نے استخارہ کیا۔میرے دل میں پڑا کہ ان آیات کو خود قرآن پاک میں غور سے پڑھوں۔یہ پہلا موقعہ تھا کہ میں نے شاہ عبد القادر کا مترجم قرآن شریف لے کر بڑی غور و خوض سے پڑھنا شروع کیا اور چند روز میں سورہ مائدہ کے ختم ہونے تک پوری تسلی ہو گئی۔پھر میں نے ایک خط مزید اختیاط کے طور پر نظام الدین حسن صاحب شیخ بریلوی کی خدمت میں پہلی عقیدت خاندان چشتیہ کی بناء پر لکھا اور استدعا کی کہ آپ کو میں صاحب کشف سمجھتا ہوں آپ حضرت رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت مرزا صاحب کے دعاوی کی تصدیق فرما کہ اعلان کر دیں اور مجھے مطلع فرما دیں کیونکہ حضرت اقدس کے استدلال کے آگے ٹھہر تا تعلیم یافتہ بے تعصب لوگوں کا محال سا نظر آتا ہے۔اگر دعوئی صحیح ہے تو ایسی نعمت عظمی سے محرومی مسلمانان عالم کو کیوں نصیب ہو۔اگر خدانخواستہ دعوئی غلط ہو تو ہم لوگوں کو چیچنا چاہئیے۔وہ جواب میں تحر یہ فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی ایسی طاقت نہیں ہے کہ میں مرزا صاحب کے دعاوی بطلان کروں۔عند العقل بعض بعض باتیں قرآن کے خلاف معلوم ہوتی ہیں۔واللہ اعلم بالصواب میں تکذیب و بطلان نہیں کر سکتا۔میرے پاس یہ خط محفوظ تھا اور شاید آپ بھی ہو۔یہی الفاظ تقریبا ہیں پس میرے فیصلے پر کوئی اثر نہ پڑا اب میں نے قصہ بھو گاؤں میں تبلیغ شروع کر دی۔شرفائے قصبہ کہنے لگے کہ تحصیلدار صاحب کے ماتحت لوگ محض اُن کے خوش رکھنے کے لئے عقیدت بدل لیتے ہیں بعد میں پھر ویسے ہی ہو جاتے ہیں اور ایک حکیم صاحب کی نظیر بھی پیش کی جو امادہ کے تھے اور بعد میں فرخ آباد جا کہ بعید کے مخالف ہو گئے۔میں نے اس کے مناسب جواب دیئے لیکن میں نے ایسے محسوس کیا کہ یہ انہ ان پر غالب ہے۔استدلال کا جواب وہ کبھی نہ دے سکے بعض لوگ متائمہ تھے اس زمانہ کی نماز کی لذتیں آج تک یاد ہیں دل چاہتا تھا کہ اک اک گھنٹہ کا سجدہ کریں نماز کی بابت ہنوز علیحدگی کا حکم نہ تھا۔اس لئے جلد باز اماموں کے پیچھے نماز پڑھنے سے کوفت ہوتی تھی سوائے جمعہ کے اور کوئی نماز ان کے پیچھے پڑھنا چھوڑ دی تھی ایک دن تحصیلدار صاحب مرحوم و مغفور نے فرمایا کہ بیعت کا خط کیوں نہیں بھیج دیتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں تو بیعت کر چکا ہوں مبلغ بنا ہوا ہوں سیمی خط ابھی نہیں بھیجا ہے کسی مصلحت سے فرمایا یہ تو نفاق ہے۔مجھے اس لفظ سے بہت تکلیف ہوئی۔میں نے