تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 390
۳۷۲ میں بھی یہ پیشگوئی آتی ہے۔حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ فلسطین کے علاقہ میں اسلامی لشکر آئے گا۔اور یہودی اس سے بھاگ کہ پتھروں کے پیچھے چھپ جائیں گے اور جب ایک مسلمان سپاہی پتھر کے پاس سے گزرے گا تو وہ پتھر کہے گا اے مسلمان خدا کے سپاہی ! میرے پیچھے ایک یہودی کافر چھپا ہوا ہے اس کو مار۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی تھی اس وقت کسی یہودی کا فلسطین میں نام و نشان بھی نہیں تھا۔پس اس حدیث سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیشگوئی فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ میں یہودی اس ملک پر قابض ہوں گے ، مگر پھر خدا مسلمانوں کو غلبہ دے گا اور اسلامی لشکر اس ملک میں داخل ہوں گے اور یہودیوں کو چن چین کر چٹانوں کے پیچھے ماریں گے۔پس عارضی ہیں اس لئے کہتا ہوں کہ انَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِي الطَّلِحُونے کا حکم موجود ہے مستقل طور پر تو فلسطین عِبَادِی الصَّلِحُونَ کے ہاتھ میں رہتی ہے۔سو تعدا تعالیٰ کے عِبادِی الفلاحون محمد رسول اللہ کی امت کے لوگ لازٹا اس ملک میں جائیں گے نہ امریکہ کے ایٹم بم کچھ کر سکتے ہیں نہ ایسے ہم کچھ کر سکتے ہیں نہ روس کی مدد کچھ کر سکتی ہے۔یہ خدا کی تقدیر ہے یہ تو ہو کر رہی ہے چاہے دنیا کتنا زور لگا لے آئیے - الانبياء or 1۔4 : + گے۔سیر روحانی " جلد سوم ماه - ۵۳۰ ، ناشر الشركة الاسلامیہ لمٹیڈ ر توه۔! i 1