تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 387 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 387

۳۶۹ شروع ہو جاتی ہے۔کچھ عرصہ تک تمہارے بوجھ بڑھتے چلے جائیں گے۔کچھ عرصہ تک تمہاری مصیبتیں بھیانک ہوتی چلی جائیں گی۔کچھ عرصہ تک تمہارے لئے ناکامیاں ہر قسم کی شکلیں بنا بنا کر تمہارے سامنے آئیں گی۔لیکن پھر وہ وقت آئے گا جب آسمان کے فرشتے اُتریں گے۔اور وہ کہیں گے لیس ہم نے ان کا دل جتنا دیکھنا تھا دیکھ لیا جتنا امتحان لینا تھا لے لیا۔خدا کی مرضی تو پہلے سے یہی تھی کہ ان کو فتح دے دی جائے۔جاؤ ان کو فتح دے دو اور تم فاستخانہ طور پر اسلام کی خدمت کرنے والے اور اس کے نشان کو پھر دنیا میں قائم کرنے والے قرار پاؤ گے پینے تیسری تقریر تیسری تقریر میر روحانی کے اہم علمی موضوع پر تھی جس سے قبل حضور نے حسب ذیل پانچ ضروری امور کا تذکرہ فرمایا : ا۔اس سال مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے یہ سفارش کی تھی کہ مجلس لا ہور نے چونکہ اس دفعہ غیر معمولی کام کیا ہے اس لئے اس سال اس کو باوجود دوم رہنے کے علم انعامی دیا جائے اور مجلس کراچی چونکہ پہلے ہی سے اچھا کام کرتی چلی آرہی ہے اس لئے اس کو نہ جائے۔لیکن حضرت مصلح موعود نے علم اتعامی کا مستحق مجلس کراچی ہی کو قرار دیا اور ارشاد فرمایا کہ : اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لاہور کی جماعت قدام الاحمدیہ نے اس سال بہت عمدہ کام کیا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک نیم مردہ سی جماعت تھی جس میں زندگی کی روح پھونک دی گئی اور اس خدمت کا سہرا اُن کے قائد محمد سعید اور اُن کے چار پانچ مدد گاروں پر ہے جنہوں نے محنت کے ساتھ اُن کا ساتھ دیا اس مجلس کی تنظیم میں ان کا ہاتھ بٹا یا پچھلے سیلاب کے موقع پر انہوں نے غیر معمولی طور پر کام کیا اور پھر غیر معمولی طور پر اس کو دنیا کے سامنے روشناس بھی کر دیا پس اس لحاظ سے وہ خاص طور پر تعریف کے قابل ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم اگر نمیر بدل ڈالنے کی رسم ڈال دیں گے تو اس سے سجائے حوصلہ بڑھنے کے اعتراض پیدا ہوگا۔ہمیں اُن کے اچھے کام کی مختلف مواقع پر تعریف کر دینی چاہیئے لیکن ساتھ ہی ہم کو یہ امر بھی مد نظر رکھنا چاہیئے کہ جو اول نمبر پر ہے اس کو اول نمبر ہی دیا جائے تاکہ آئندہ دوسرے کسی موقعہ پر کسی کی جنبہ داری یا کسی کی ناجائزہ تائید کا سامان پیدا نہ ہو۔پس میں باوجود مجلس کی سفارش کے یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ لے روزنامہ " الفضل " ربوه ۲۸ اکتوبر ۶۱۹۵۵ ۳-۵