تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 382 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 382

م ۳ " - مولوی محمد سلیم صاحب فاضل سابق مبلغ بلاد یو بیہ - (1۔" بھارت کی ترقی کسی طرح ہو سکتی ہے؟ A کے اگر۔۲۔جماعت احمدیہ کی بین الاقوامی حیثیت ) گیانی مرزا د ا حمدحسین صاحب مبلغ سلیله۔( اردو ہی ہمارا کرشن ۲۔وہی ہمارا نانک " ) مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل وکیل یاد گیر (سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آله و سلم ) ملک صلاح الدین صاحب ایم اے مؤلف اصحاب احمد (جماعت کا غیر مسلموں سے سلوک) حضرت حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری ناظر تعلیم و تربیت ، درجماعت احمد تر اور دیگر فرقوں میں فرق ) مولوی شریف احمد صاحب امینی مبلغ بمبئی۔(جماعت اسلامی کے بغیر اسلامی مسلک ) سید اختر احمد صاحب اور نیوی پرو فیسر پٹنہ کالج رونیا کی اقتصادی مشکلات کامل کا ابو المنیر مولوی نورالحق صاحب پروفیسر جامعة المبشرين ربوه۔و حضرت مسیح موعود کی بعثت کی غرض و غایت، تقسیم ملک کے بعد یہ سب سے زیادہ پر رونق جلسہ تھا جن میں ہندوستان سے تقریباً پونے نہیں ، سو احباب تشریف لائے اور قافلہ پاکستان کے ۱۵۵ احمدیوں نے شرکت کا اعزاز حاصل کیا علاوہ ازیں سینکڑوں غیر مسلم بھی شامل جلسہ ہوئے۔خواتین کا جلسہ مردانہ جلسہ گاہ سے متصل مکان میں ہوا، جہاں مردانه پروگرام کا اکثر حصہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ سنا یا گیا۔قدوسیوں کی پیاری لیستی جس طرح خاص طور پر جلسہ کے ایام میں دُعاؤں سے معمور اور معطر ہو جاتی ہے اس کے ایمان افروز مناظر اس مرتبہ بھی دیکھنے میں آئے۔بیت الدعاء مسجد اقصیٰ مسجد مبارک اور مزار حضرت مسیح موعود غرضیکہ ہر مقدس مقام پر شمع احمدیت کے پروانوں نے پیر سوز دعائیں کیں اور اپنے قیمتی لمحات کو زیادہ سے زیادہ ذکر الہی کے لئے وقف رکھا۔ایام جلسہ میں نظارت بیت المال قادیان کی طرف سے شورتی بھی منعقد ہوئی جس میں چندوں کے اضافہ کے ذرائع پر غور کیا گیا۔نیز ۲۸ ، دسمبر کی شب کو مسجد مبارک میں ایک اور خصوصی جلسہ ہوا جس مولوی محمد اسماعیل صاحب وکیل یاد گیر اور چودھری اسد اللہ خان صاحب نے سلسلہ احمدیہ کیلئے اموال خرچ کرنے کی تیر جوش تحریک فرمائی۔اسی دن سردار گوپال سنگھ صاحب باجوہ نے کوٹھی دارالسّلام میں بعض پاکستانی اور بھارتی احمد یوں نیز مرکزہ قادیان کے عہد یداران کو عصرانہ دیا۔اس تقریب پر ضلع گورداسپور کے ایک پرانے کانگریسی لیڈر