تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 380 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 380

٣٣ ہے۔اتنے وسیع ملک میں وہ اکیلا کیا کر سکتا ہے۔امریکہ کی آبادی 4 کروڑ کی ہے۔فرض کرو وہاں ایک لاکھ شہر اور قصبات ہیں تو اب اگر ہر شہر اور قصبے میں ہمارا ایک آدمی ہو تب تو کوئی حرکت پیدا ہو سکتی ہے۔اگر چہ مبلغین کی یہ تعداد بھی کافی نہیں۔لیکن اگر دو دو ہزار میل پر مبلغ بیٹھا ہو اور اس کے پاس لٹریچر بھی نہ جو تو لوگوں کی توجہ اسی کی طرف کیسے ہو سکتی ہے۔ہم تو ابھی تک ابتدائی کام بھی نہیں کر سکے، لیکن اصل کام یہ ہے کہ ہم لٹریچر کو تمام دنیا میں پھیلا دیں۔تا کہ مخالفین کے حملوں کا جواب دیا جا سکے۔لٹریچر کا اس قدراثر ہوتا ہے کہ ہمارے ایک مبلغ ابھی سوئٹزرلینڈ سے آئے ہیں وہ مجھے ملنے کے لئے آئے۔تو میں نے ان سے پوچھا کہ ان کی کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا ہے ؟ انہوں نے کہا آدمی تو بہت تھوڑے ہماری جماعت میں داخل ہوتے ہیں۔یعنی ابھی تک صرف دس بارہ آدمی اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔مگر ہم اصل کام اس کو نہیں سمجھتے۔بلکہ اصل کام ہم اس کو سمجھتے ہیں کہ پہلے یورپین لٹریچر میں خلاف اسلام باتیں شائع ہو جاتی تھیں تو ان کا کوئی جواب دینے والا نہیں ہوتا تھا۔پھر ایک وقت آیا کہ ہم ان باتوں کی اصلاح کرنے لگے۔لیکن کوئی اخبار ہمارا مضمون شائع نہیں کرتا تھا۔لیکن اس اخبار تک یہ خبر ضرور پہنچ جاتی تھی کہ اس ملک میں اسلام کے حق میں لکھنے والے بھی موجود ہیں۔لیکن اب اس حد تک کامیابی ہو چکی ہے کہ اخبارات ہمارے جوابات بھی شائع کر دیتے ہیں۔اور یہ اخبار لاکھوں کی تعداد میں چھپتے ہیں۔اس طرح ہماری آوازہ لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے ، بلکہ اب اخبارات اسلام سے تعلق رکھنے والے مضامین اشاعت سے پہلے ہارے پاس بھیج دیتے ہیں کہ آپ اگر کوئی رائے دینیا چاہیں تو دے دیں۔عرض دس بارہ آدمیوں کا مسلمان ہو جانا تو کوئی بڑی کامیابی نہیں۔اصل کامیابی یہ ہے کہ ملک کے رہنے والوں کو یہ پتہ لگ گیا ہے کہ اگر یہاں اسلام کے مخالف موجود ہیں تو اس کے موید بھی چاہے وہ کتنی کم تعداد میں ہیں۔موجود ہیں۔لیکن اگر لٹریچر پھیل جائے تو اس سے بھی زیادہ اثر ہو۔پس تحریک جدید کوئی معمولی ادارہ نہیں بلکہ اسلام کے احیاء کی کوششوں میں سے ایک زبر دست کوشش ہے اسے ه۔روزنامہ " الفضل " کیا ہور ۲۲, دسمبر ۱۹۵۸ / فتح ۱۳۳۳ پیش ۵۲ رش