تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 379
تعداد کے لحاظ سے تو یہ کام بہت زیادہ ہے۔ابھی تک دنیا میں ایک ارب اسی کروڑ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو یا تو اسلام سے متنفر ہیں یا اس کے دشمن ہیں۔کم از کم ان میں سے ایک حصہ ایسا ہے جسن تک ابھی تک اسلام کے متعلق کوئی بات نہیں پہنچی۔۔اس وقت ایک بہت بڑا طوفان آیا ہوا ہے۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روحانیت پر پردے ڈال دیئے گئے ہیں اگر تمہارے سامنے وہ کتا بیں رکھی جائیں یا تمہیں پڑھ کر سنائی جائیں جو یورپ اور امریکہ میں اسلام کے خلاف لکھی گئی ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک سنگدل سے سنگدل مسلمان کی بھی چنچیں نکل جائیں تم جس کی تعریف میں قصائد پڑھتے ہو۔جس پر تم دن میں کئی بار درود بھیجتے جو اس کو نہایت حقیر رنگ میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔اسے اس قسم کی گالیاں دی جاتی ہیں کہ دنیا کے کسی ذلیل سے ذلیل انسان کو بھی وہ گالیاں نہیں دی جا سکتیں۔تم ایک معمولی آدمی کو گالیاں دیتے دیکھ کر فقہ میں آجاتے ہو لیکن تم یہ خیال نہیں کرتے کہ اس شخص کے متعلق جسے تم اپنا بادی را تھا۔آقا اور خدا کا فرستادہ سمجھتے ہو لوگوں کو اتنی غلط فہمیاں ہیں کہ صد ہی نہیں۔آخر سب لوگ پاگل تو نہیں ہو گئے کہ وہ خواہ مخواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں۔ان میں سے بھی اکثر یہیں حیا اور شرافت پائی جاتی ہے۔لیکن بات یہ ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصل حالات اور سوانح سے ناواقف ہیں سینکڑوں سال مسلمان عامل رہے اور دشمن آپ کی شکل کو لوگوں کے سامنے نہایت بھیانک صورت میں پیش کرتا رہا۔اور اب ان کے دلوں میں یہ بات جاگزیں ہوگئی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انسانیت کے شدید دشمن ہیں۔۔۔جو یور ہیں لوگ مسلمان بھی ہو جاتے ہیں ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسیح علیہ السلام سے افضل ہیں۔اور آپ کو خدا تعالے نے جو شان عطا فرمائی ہے وہ مسیح علیہ السّلام کو عطا نہیں فرمائی۔پتھر کی لکیر کا بدلنا آسان ہے لیکن محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دشمنی کو ان کے ذہنوں سے نکالنا بہت مشکل ہے۔اس کے لئے جتنی قربانی بھی کی جائے کم ہے۔پس تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو اور اپنی قربانی کو اس کے مطابق بناؤ تا تمہارے کاموں میں برکت ہو، جو مدعا اور مقصد تم نے اپنے سامنے رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے۔تم سمجھتے ہو کہ کسی ملک میں مبلغ بھیج دیا تو کام ہو گیا۔لیکن تم یہ نہیں سمجھتے کہ اس کے پاس تبلیغ کے لئے کتنا وقت