تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 356
۳۳۹ گئے۔یہاں خدام نے ۲۶ مکان تعمیر کئے تھے جو ہر طرح معمل حالت میں تھے حضور نے امیر صاحب کو ہدایت فرمائی کہ وہ لوگوں کو تھوڑا بہت سامان فراہم کرنے کیلئے کہیں تاکہ ان کے مکانوں کے آگے پردے کی دیواریں کھینچ دی جائیں۔اس ضمن میں ایک صاحب مکریم سید نیاز علی صاحب نے دیو اسلامیہ کالج لاہور سے تعلق رکھتے تھے سستے داموں مٹی فراہم کرنے کا ذمہ لیا۔انہوں نے بتایا کہ میں نواں کوٹ میں رہتا ہوں۔آپ لوگوں کی بر وقت اور بے لوث خدمات مجھے سرکار (حضور) کی زیارت کے لئے یہاں کھینچ لائی ہیں۔آپ کے نوجوانوں نے جس درجہ مخت اور جانفشانی سے کام کیا ہے یکیں اس سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔مجھے ابھی ابھی پتہ لگا کہ آج سرکار اس علاقہ میں تشریف لائے ہوئے ہیں چنانچہ میں کتنے ہی زیارت سے شرف یاب ہونے کے لئے دوڑا چلا آیا ہوں۔حضور ان مکانوں کا معائنہ کرنے کے بعد واپس تشریف لے جا ہی رہے تھے کہ ایک بڑھیا نے نہایت درد بھرے انداز میں کہا کہ میرے لئے ایک کمرہ تو آپ کے آدمی پہلے ہی بنا چکے ہیں لیکن میری کئی جوان بیٹیاں ہیں اور نیچے ہیں۔جن کے واسطے سر چھپانے کو جگہ نہیں ہے اس لئے میرے واسطے ایک کمرہ اور بنوا دیا جائے ، اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کے پاس نہ اینٹیں ہیں نہ لکڑی اور نہ مٹی وغیرہ۔لا حضور نے اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کا مکان بنوا دیا جائے گا۔ساتھ ہی حضور نے مریم قائد صاحب مجلس کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس عورت کے مکان کا تخمینہ آج شام تک ہی پیش کر کے اس کی تعمیر کی منظوری لے لیں۔چنانچہ مکرم قائد صاحب کی طرف سے شام کو خرچ کا اندازہ پیش ہونے پر حضور نے ہدایت فرمائی کہ اس عورت کے لئے باقاعدہ ایک پختہ کمرہ تعمیر کر وا دیا جائے اس کے بعد حضور نے دھوبی منڈی واقع پرانی انار کلی کی تنگ گلیوں میں خدام کے ہاتھوں تعمیر شد مکانات کا معائنہ فرمایا اور وہاں کے لوگوں کی شکایات سننے کے بعد رتن باغ واپس تشریف لے آئے۔اس یاد گار اور تاریخی دورہ میں جن احباب کو حضور کے ہمراہ جانے کا شرف حاصل ہوا۔ان کے نام یہ ہیں :۔مکرم چوہدری اسد اللہ خانصاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور۔مکرم محمد سعید احمد صاحب قائد مجلس خدام الاحمدیہ مکرم شیخ محمد شریف صاحب چوہدری فتح محمد صاحب شیخ نصیر الحق صاحب۔ڈاکٹر عبداللہ صاحب سید بہادل شاہ صاحب شیخ مبارک محمود صاحب پانی پتی۔مکرم مولوی