تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 352
۳۳۵ نہ کوئی راستہ پیدا کر دے گا " اس کے بعد حضرت امیر المومنین المصلح الموعودؓ نے سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء کا یہ واقعہ سنایا کہ شاہ دہلی نے ایک مہم سے واپسی کے بعد آپ کی گرفتاری کا فیصلہ کر رکھا تھا مگر وہ شہر میں داخل ہونے سے پہلے ایک حادثہ کا شکار ہو گیا ہے پھر حضور نے فرمایا :- پس ہمارا خدا ایسی طاقت رکھتا ہے کہ وہ تمام یہ صرافت دار لوگوں کو جو سمجھتے ہیں کہ ہم جو چاہیں کر لیں راہ راست پر لے آئے۔ان کی جانیں ان کی طاقت اور ان کے جتھے سب اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔پس تم دعائیں کرو کہ وہ خدا جس نے پاکستان بنایا ہے ایسے طاقتور لوگوں کو جو دانستہ یا نادانستہ ملک سے غداری کر رہے ہیں یا اس کی ترقی کی راہوں کو مسدود کر رہے ہیں راہ راست پر لے آئے۔اور اگر وه راه راست پر نہ آئیں تو ان کو آپس میں لڑوا دے اور پاکستان کو کمزور ہونے سے بچالے تاکہ وہ را پر نہ توان میں دے اور کو سے بچائے مسلمان ہر قسم کے فتنہ سے محفوظ رہیں تہ اس خطیہ میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ :۔"اگر تمہارا خدا چاہے تو تین دن کے اندر اندر ان لوگوں کی طاقت کو توڑ دے اور بر سر اقتدار لوگ جو اس وقت شرارت کر رہے ہیں ان کے فتنہ سے لوگوں کو بچالے تھے خدا کی قدرت !! حضور نے یہ الفاظ جمعہ کو کہے اور ٹھیک تیسرے دن گورنر جنرل پاکستان ہز ایکسی لینسی ملک غلام محمد صاحب نے ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا۔دستور ساز اسمبلی توڑ دی اور مسٹر محمد علی بوگرا وزیر اعظم پاکستان کو دعوت دی کہ وہ ملک کے نظم ونسق کو موثر طریق پر چلانے کیلئے اپنی کا بینہ کو از سر نو تشکیل دیں چنانچہ انہوں نے ایک نئی کابینہ بنائی جس میں کئی محب وطن شخصیات کو شامل کیا اور بعض ایسے لوگ بھی آگے آگئے جو اگرچہ (حکمران پارٹی) مسلم لیگ کے ممبر نہیں تھے مگر کسی نہ کسی رنگ میں انہوں نے ملک کی خدمت کی تھی۔اس طرح ملک کو پیش آمده خطرات وقتی طور پر مل گئے۔اور یہ عارضی تغیر سید نا حضرت مصلح موعود اور جماعت احمدیہ کی دعاؤں کے نتیجہ میں رونما لے۔"نيا تذكرة الاوليا " ص ۳۳۲ مؤلفہ سید رئیس احمد صاحب جعفری ندوی ناشر شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور له الفضل لاہور ۲۶ را خار ۱۳۳۳ ریش مد ۲ - سے۔روزنامہ" الفضل" (لاہور) در ماه نبوت ۱۳۳۳ ارتش صد کالم را