تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 338 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 338

۳۲۱ فصل ششم خلفاء کی آسمانی نکا میں جو کچھ رکھتی ہیں وہ دوسروں کو عقل و تدبر اور فہم در کار کے خزانوں دکھائی نہیں دے سکتا حضرت خلیفہ ایسی ثانی الصلح سے فائدہ اٹھانے کی تلقین الموعود اپنے حیرت انگیز نور فراست و بصیرت کی بدولت شروع ہی سے جانتے تھے کہ اس وقت جماعت احمدیہ کے کندھوں پر جو بوجھ ہے اس سے ہزار گنا بوجھ احدیت کی آئندہ نسلوں پر ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ حضور اوائل خلافت ہی سے جماعت کو توجہ دلاتے آرہے تھے کہ وہ اپنی تفضل و ذہانت کو تیز کرے اور اپنی نئی پود کو بھی روشن دماغ بنائے جضور نے خدام الاحمدیہ میں بھی بعض ایسی شقیں رکھیں جن کی وجہ سے عقل و فکر کی استعدادوں اور قوتوں میں اضافہ ہو اور ہر اگلی نسل اپنے حافظہ اور ذہانت میں پہلی نسل سے آگے ہو۔اسی مقصد کے پیش نظر حضور نے، ارستمبر ۷/۱۹۵۴ار تبوک ۱۳۳۳اہش کو ایک مفصل خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں جماعت کو اس دائمی ذمہ داری کی طرف خاص طور پر متوجہ کیا اور محمود غزنوی کے فارم ، آیا نہ اور رنٹی دنیا دریافت کرنے والے) کولمبس کی غیر معمولی ذہانت کے بعض سبق آموز اور دلچسپ واقعات بیان کرنے کے بعد سر مایا : جتنے لیڈر ، بادشاہ اور جرنیل بنے ہیں وہ ظاہری دولت سے نہیں بنے بلکہ خدا داد و دلتوں حافظہ عقل ، فکر اور تدبر سے بنے ہیں۔ہمایوں کے پاس ظاہری دولت نہیں تھی۔بابر کے پاس ظاہری دولت نہیں تھی ، اکبر کے پاس ظاہری دولت نہیں تھی ، لیکن ان لوگوں نے عقل، فکر اور تدبر کی دولت سے فائدہ اٹھایا اور عظیم الشان کارنامے سرانجام دیے۔ان کے مقابلے له منهاج الطالبین ص طبع اول ( تقریر ، ۲ دسمبر ۱۹۲۵ء)