تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 337 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 337

۳۲۰ یاد رکھو کہ شریف طبقہ ہر قوم میں ہوتا ہے۔دہریوں میں بھی شریف ہوتے ہیں پھر مسلمان کے کان میں تو قرآن کریم کے الفاظ رات دن پڑتے رہتے ہیں اس لئے کوئی نہ کوئی درجہ شرافت کا اس میں ضرور موجود ہوتا ہے پس تم کیونکر سمجھتے ہو کہ تمہاری نیکی ان پر اثر نہیں کرے گی ممکن ہے تمہاری نیکی دیکھ کے وہ بھی اس قسم کا کام کرنا شروع کر دیں اور اس طرح ان میں بھی قوم ، ملک اور حکومت کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو جائے اور اگر ایسا ہو جائے تو تمہیں اس بات کا بھی ثواب ملے گا۔کہ تم نے نیکی کی اور اس بات کا بھی ثواب ملے گا کہ تمہاری وجہ سے دوسر کئی لوگوں نے نیکی کی برسول کریم صلی الہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگرکسی شخص کے ذریعہ کوئی دوسرا آدمی ہدایت پالیتا ہے تو اسے دو ثواب ملتے ہیں۔ایک ثواب تو اس کی اپنی نیکی کا ہوتا ہے اور ایک ثواب اُس شخص کی نیکی کا ملتا ہے جو اس کے ذریعہ ہدایت پاتا ہے۔فرض کرو تمہاری وجہ سے پاکستان کے لوگ ہدایت پاتے ہیں اور تمہاری تعداد ایک لاکھ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم میں سے ہر ایک کو ۸۰۰ آدمیوں کی نیکی کا ثواب ملے گا ایک آدمی کی نیکی بھی بڑی چیز ہوتی ہے اور وہ آسمان اور زمین کو بھر دیتی ہے پھر اگر کسی کے ذریعہ ۸۰۰ اشخاص ہدایت پا جائیں اور ان ۰۰۰ اشخاص کی نیکیوں کا ثواب بھی اسے ملے تو پھر اس کی نیکیوں کو رکھنے کے لئے خدا تعالے یہی سامان کرے تو کرے ورنہ زمین و آسمان میں اس کی نیکیاں سما نہیں سکیں گی۔پس دوست اس قسم کے نیکی کے مواقع کو ضائع نہ کریں بلکہ ان مواقع پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کی خدمت کریں اگر تمہارے عمل کو دیکھ کر دوسرے لوگوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے تو یقینا اس سے سارے ملک کا معبا را خلاق بلند ہو جائے گا رہ الفضل ، اخاد ۳۳۳ اسش بر اکتوبر ۱۹۵۴ء ص ۴-۵ i