تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 336
۳۱۹ کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا تھاخدا تعالیٰ کی خاطر کیا تھا مگر تاہم اس ڈرائیور نے یہ جواب دیا کہ اب ہم پہلے آپ کو بٹھا یا کریں گے پھر اور کسی کو بٹھائیں گے لیکن دل ایک دن میں نہیں بدلا کرتے۔دل آہستہ آہستہ بدلتے ہیں اس لئے تم اپنا کام کرتے چلے جاؤ اور اس بات کا خیال نہ آنے دو کہ دوسرے لوگ تمہاری مخالفت کرتے ہیں یا تمہاری خدمت کی قدر کرتے ہیں قرآن کریم میں الہ تعالی بار بار ی سی اس کے الفاظ بیان فرماتا ہے کہ تم نیکی بھی کرد خدا تعالیٰ کی خاطر کرد۔اس لئے چاہے تم سود فعہ نیکی کرو اور جن سے تم نیکی کردوہ سو دفعہ تمہاری مخالفت کریں وہ تمہارے دشمن ہوجائیں محرم نیکی کر نہ کرو تم نے جو کچھ کرتا ہے خداتعالی کی خاطر کرنا ہے اور وہی تمہاری نیکی کا بدلہ دے گا۔اس دفعہ لاہور کی جماعت نے قربانی کا اچھا نمونہ پیش کیا ہے اور وہاں کے خدام نے قابل تعریفیت کام کیا ہے۔مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ اس دفعہ اُن میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے مصیبت زدگان کی خوب مدد کی ہے اب فرض کرد کہ کچھ عرصہ کے بعد لوگ جماعت کے احسان کو بھول جاتے ہیں تب بھی تم اُن سے مشین سلوک کرد کیونکہ تم نے جو کچھ کرنا ہے وہ خدا تعالیٰ کی خاطر کرنا ہے۔اور خدا تعالیٰ تمہار سے کام کو دیکھ رہا ہے اور وہی اس کا اجر دے گا اگر کوئی شخص کسی پر احسان کرتا ہے اور دوسرا شخص اس احسان کو بھول جاتا ہے یا اس کے احسان کی قدر نہیں کرتا تو یہ اس کا قصور ہے تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ تم احسان کرتے چلے جاؤ اور ہمارا خدا ایسا ہے کہ اس نے نیکی کر نیو الے کے لئے ثواب کے اتنے رستے کھولے ہیں کہ اُن کی کوئی حد ہی نہیں اس لئے ایسے فعل پر کسی مسلمان کے دل میں انقباض پیدا ہونا یا نفرت اور حقارت کا جذبہ پیدا ہونا اور دل میں گرہ پڑنا نا جائز ہے اگر کوئی نہیں گالی دیتا ہے تو تمہیں چڑنے کی ضرورت نہیں۔اس کی گالی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا۔رسول کریم مستے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی کو گالی دیتا ہے تو خُدا تعالے کے فرشتے اُسے دُعائیں دیتے ہیں۔اب دیکھیو اُس شخص کی گالیوں نے کیا بنانا تھا۔اگر کچھ بنانا ہے تو فرشتوں کی ماؤں نے بنانا ہے۔میری اپنی یہ حالت ہے کہ مجھے کوئی کتنی گالیاں دے مجھے اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا۔میں سمجھتا ہوں کہ ان الفاظ سے میرا کیا بگڑتا ہے۔نیز فرمایا :