تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 329
کمیابی کی وجہ سے مسافروں کی پیاس کی تکلیف دور کرنے کے لئے خُدام کافی فاصلہ سے پانی لاتے اور مسافروں کو پلاتے۔بھنے ہوئے چنے اور گڑا بھی ضرورت مندوں میں تقسیم کرتے رہے۔جناب ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے خدام کے کیمپ کا معائنہ فرمایا اور خدام کے کام سے بہت متاثر ہوئے۔اور خدام کے جذبہ خدمت کی بہت تعریفت کی۔جناب تحصیلدار صاحب چنیوٹ نے بھی کیمپ کا معائنہ فرمایا اور خدام کے کام کو سراہا۔اور فرمایا کہ زندہ قوم کی یہ ہی علامت ہے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ خدام کے آنے سے قبل وہاں ٹانگے والے مسافروں کو ایک روپیرنی سواری لیکر بارہ اتارتے تھے۔لیکن خدام کا کیمپ لگنے کے بعد انہوں نے اپنے کرائے کافی حد تک گرا دیئے۔پانی کافی اتر جانے کے بعد خدام وہاں سے واپس آئے لیے سیالکوٹ شہر ستمبر کی درمیانی شب جبکہ سب لوگ گہری نیند سو رہے تھے شہر کے شمال کی جانب سے ایک نالہ کا پانی شہر کے دو محلوں پورن نگر اور محلہ واٹر ورکس میں داخل ہوا۔خاص کہ محلہ پورن نگر کے حالات بہت زیادہ خراب ہو۔لئے خدام نے راتوں رات دونوں محلوں کے لوگوں کو محدوش مکانات سے نکال کر مسجد سامان محفوظ جگہ پہنچا یا یستہ پورن نگر میں ایک مکان کی دیوار بنائی اور مخدوش مکانوں کو درست کیا گیا۔محلہ واٹر ورکس میں بھی خدام نے بڑی جانفشانی اور محنت سے راتوں رات گری ہوئی دیواروں کو اور مخدوش مکانوں کو درست کیا محلہ جامع مسجد کے خدام نے ریلوے اسٹیشن جاکر خطرے کا اعلان کیا اور اسٹیشن ماسٹر صاحب کی خدمت میں بھی اپنی خدمات پیش کیں۔اکثر مسافروں کو ان کی خواہش کے مطابق محفوظ مقامات پر پہنچایا اور کھانے وغیرہ سے بھی ان کی تواضع بھی گئی۔لوگ خدام کی اس بے لوث خدمت کو بہت سراہتے تھے کہ شہر کے حالات قدرے درست ہونے پر خدام کی مختلف ٹولیاں مواضعات میں پھیل گئیں اور سیلاب زدگان کی مراد میں سرگرم عمل ہوگئیں شیطان پور روڈ کی حفاظت کے لئے خدام کی ایک پارٹی جب اپنے بیلچے اور ٹوکریاں اور کھائیں لیکر شہر میں سے گزری تو لوگ حیرت سے خدام کے جذبہ خدمت خلق کو دیکھتے اور خراج تحسین پیش کرتے سلطان پور کے قریب ایک سڑک ٹوٹی ہوئی تھی اور باری تانگہ تو درکنار پیدل آدمی کا گذر بھی مشکل تھا۔خدام نے تقریباً دو فرلانگ سے پتھرا کر اور مٹی ڈال له الفضل و اخاء ۳۳۳ آتش / ۱۹ اکتوبر ۱۹۵۴ء مت الله الفضل ۲ اکتوبر ۱۹۵۴ دمت الفضل ۱۵ اکتوبر ۱۹۵۴ دمت ۲۰۰ اکتوبر ۱۹۵۴ دمت