تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 20
JA معجزہ ہے۔اس لیئے لیکن ایسٹ افریقین احمدیہ مسلم مشن کا اُن کے اِس اہم کام یعنی قرآن پاک کی سواحیلی زبان میں ترجمہ و تفسیر شائع کرنے کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔قرآن پاک کی سوراحیلی تفسیر مشرقی افریقہ کے سارے عالم و شیوخ کئی سالوں تک بھی نہ کر سکے۔اُن کے تفسیر سواحیلی نہ کر سکنے کی وجہ سے انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ تفسیر ہو ہی نہیں سکتی اور ایسا کام کرنا کفر ہے اب قرآن پاک کی اس سواحیلی تفسیر سے واضح ہوتا ہے کہ صرف احمدی ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح راستے پر گامزن ہیں۔لیکن جماعت احمدیہ کے لئے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی برکات و رحمت اس پر ہوں۔آمین (ترجمہ) تو در اوایل یک سال اشاعت تین تعداد کی ا ترجمہ سواحیلی کی پہلی اشاعت دنیا ہزار کی تعداد میں کی گئی۔دسمبر قیدیوں کا قبول اسلام 1909 ء یک اس کے قریبا چھ ہزار نسخے فروخت یا تقسیم ہو چکے ۱۹۵۹ء تک تھے۔بہت سے نسخے جیل خانوں کو ارسال کئے گئے بالخصوص ماؤ ماؤ ڈیٹینشن کیمپوں کو ، جہاں ان کی بہت مانگ تھی۔اس کتاب کی وجہ سے بہت سے تعلیم یافتہ اور سمجھدار قیدیوں نے قبولِ اسلام کیا۔اس سلسلہ میں بطور نمونہ بعض خطوط کا ذکر کرنا مناسب ہوگا۔ا۔مسٹر نارین نیتھنگے کا مبا قبیلہ کے ایک قیدی نے قرآن کریم کے سوا حیلی ترجمہ کے بار بار پڑھنے کے بعد اسلام قبول کر لیا۔آپ نے ۲۹ اپریل ۱۹۵۹ ء کو لکھا کہ میں نے اپنی ساری زندگی اشاعت اسلام کے لئے وقف کر دی ہے اور اگر اسے قبول کر لیا جائے تو مجھے یقین ہے کہ میں پوری طرح اس پر عمل کر کے دکھاؤں گا۔۲ - جو روگ جو گو (NIOROGENIOGU ) ایمر جنسی ریگولیشنز کے تحت ۱۹۵۳ء سے گرفتار تھے آپ نے اور جنوری ۱۹۵۹ء کو لکھا کہ میں اپنی جوانی کے زمانہ سے عیسائیت کا پرچار کر رہا تھا لیکن اب یکس نے اپنا ارادہ تبدیل کر لیا ہے اور یکی چاہتا ہوں کہ آپ کے پیچھے مذہب اسلام کا مطالعہ قرآن کریم پڑھ کر کروں۔مسٹر کب کیگیرا (KI BE KAGIRA ) بھی ایمر جنسی ریگولیشنز کے تحت گرفتار تھے ۱۶ جنوری ۱۹۵۹ء کو لکھا کہ میں اپنی جوانی کے زمانہ سے عیسائی ہوں لیکن اب قرآن کریم پڑھنے کے بعد آپکے مذہب کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں مجھے یقین ہے کہ قرآن کریم کے مطالعہ سے خدائے تو انا نے جو