تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 318 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 318

٣٠١ اس طرح زار و قطار رونے لگے جیسے کوئی گہرا دوست سالہا سال کی جدائی کے بعد طلا ہو مبلغین نے انہیں کچھ چاول ہے اور کہا ہم غریب لوگ ہیں لیکن پھر بھی چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی تکلیف میں حصہ لیں۔انہوں نے چاول واپس کر دیئے اور کہا ہمیں اس بات کا ڈر نہیں کہ ہم فاقوں مر جائیں گے۔ہم میں سے جس کے پاس کچھ غلہ یار ہے ہیں۔وہ دوسروں کی مددکرتا ہے۔ہمیں صرف یہ احساس تھا کہ ملک میں نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔اب آپ آگئے ہیں۔تو ہمیں سب کچھ مل گیا ہے اور ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہماری تکلیف کا احساس کرنے والے تک میں موجود ہیں بے حضرت مصلح موعود نے ستمبر ۱۹۵۴ء کے خطبہ جمعہ میں یہ دردناک واقعہ بیان کرنے کے بعد احمدیوں سے پرندور تحریک فرمائی کہ وہ اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی ہرممکن مدد کریں اور ان کے لئے جلد سے جلد چندہ جمع کر کے حب الوطنی کا ثبوت دیں۔نیز بتایا کہ : اس سلسلہ میں کراچی کی جماعت نے سب سے پہلے قدم اٹھایا ہے۔انہوں نے پانچ ہزار رو پہلے کا وعدہ کیا تھا جس میں سے تین ہزار سے اوپر چندہ انہوں نے جمع کر لیا ہے۔جن جماعتوں نے اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی قدم نہیں اُٹھایا میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ چندہ جمع کریں اور اسے مرکز میں بھیجیں مرکز بھی اپنے پاس سے کچھ رقم دے گا کیونکہ ان لوگوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے اخراجات کم کر کے مصیبت زدہ لوگوں کے لئے کچھ رقم نکالیں۔پھر جو رقم جمع ہو اس میں سے کچھ رقم حکومت کے مقرر کردہ نظام کو بھجے دی جائے۔اور کچھ رقم جماعت کو بھیج دی جائے تاکہ وہ اپنے ہمسایوں میں جو تقسیم کرے سے اس تحریک کے بعد ڈھاکہ، نرائن گنج اور پنج گاؤں کے سیلاب زدہ علاقوں میں احمدی نوجوانوں نے امدادی سرگرمیاں پہلے سے زیادہ تیز کردیں چنانچہ مستمر کو نذرالاسلام صاحب جنرل سیکر ٹری کی زیر قیادت آٹھ قدام کا ایک وند نرسندی گیا۔وفد کے ساتھ ٹیکے اور دیگر ضروری اور یہ تھیں۔خدام نے پیج گاؤں میں بھی مولوی ستید اعجاز احمد صاحب کے زیر اہتمام کام کیا اور وہ سیلاب زدہ علاقوں میں بھی گئے جہاں مفلوک الحال کسانوں میں ه الفضل ۱۴ تبوک ۱۳۳۳ مش / ۱۲ ستمبر ۱۹۵۴ء ص ۴ الفصل ۱۴ تبوک ۳۳۳ آبش/ ۱۴ارستمبر ۱۹۵۴ء مث کالم۳