تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 304
YAL آپ نے لقمہ منہ سے نکال کر پھینک دیا تھا۔لیکن غالباً حضرت عائشہ کی یہ روایت ہے کہ وفات کے وقت آپ نے فرمایا کہ یہودیوں نے کھانے میں جو زہر کھلایا تھا۔اس کا اثر اس وقت تو نہیں ہوا۔لیکن اب جسم میں اس کا اثر معلوم ہوتا ہے۔یعنی اس وقت تو آپ بچ گئے لیکن اس زہر کا اثر اعصاب پر ایسا ہوا کہ بڑھتا ہے میں جا کہ وہ پھسوس ہوا۔اسی طرح ایک اور واقعہ آتا ہے۔آپ ایک جنگ سے واپس آرہے تھے۔کہ راستہ میں ایک جگہ آرام کرنے کیلئے شکر ٹھہر گیا صحابہ کا خیال تھا کہ چونکہ ہم اب مدینہ کے قریب آگئے ہیں۔اس لئے خطرہ باقی نہیں رہا۔مگر وہ تھکے ہوئے تھے اس لئے علیحدگی میں آرام کرنے کے لئے بکھر گئے۔اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ایک درخت کے نیچے رہ گئے۔آپ نے اپنی تلوار درخت کے ساتھ لٹکا دی اور خود آرام کی خاطر لیٹ گئے۔بلے سفر کی تھکاوٹ تھی۔اس لئے آپ کو نیند آگئی۔ایک کا فرجس کا بھائی مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے مارا گیا تھا۔اس نے یہ قسم کھائی تھی۔کہ چونکہ میرے بھائی کو مارنے والے مسلمان ہی ہیں اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں۔اس لئے میں اپنے بھائی کا انتقام لینے کی خاطر محد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو ماروں گا۔چنانچہ وہ اس ارادہ سے چوری پیچھے آپ کے ساتھ ساتھ آرہا تھا۔اس نے اس موقعہ کو جب صحابہ کسی خطرہ کا احساس نہ کرتے ہوئے آرام کی خاطر منتشر ہو گئے تھے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے سایہ میں اکیلے سوئے ہوئے تھے۔غنیمت جانا، اس نے درخت سے تلوار اتاری اور آپ کو آواز دے کر کہا۔اب کون تم کو مجھ سے بیچا سکتا ہے ؟ اس وقت با وجود اس کے کہ آپ بے سہتھیار تھے اور بوجہ بیٹے ہوئے ہونے کے حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔آپ نے نہایت اطمینان اور سکون سے جواب دیا۔اللہ اب اللہ کا لفظ تو سارے لوگ کہتے ہیں۔فقیر بھی۔اللہ اللہ کہتے ہیں لیکن ظاہر میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اللہ کہا۔تو خدا تعالیٰ کی ذات آپ کے پیچھے موجود تھی۔آپ کا یہ لفظ زبان سے نکالنا تھا۔کہ اس دشمن کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔وہ تلوار آپ نے فوراً اٹھائی۔اب وہ شخص جو آپ کے قتل کرنے کی نیت سے آیا تھا۔آپ کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا تھا آپ نے معلوم کرنا چاہا کہ آیا میرے منہ سے اللہ کا لفظ سن کر بھی اسے سمجھ آئی ہے یا نہیں ؟ آپ نے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔اب مجھ سے تمہیں کون سچا سکتا ہے ؟ تو اس نے کہا۔آپ ہی رحم کریں