تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 292
۲۷۵ فصل سوم ۲۷ فروری ۱۹۵۳ء سے روز نامہ الفضل ایک سال کے لئے بند کر دیا گیا تھا۔الفضل کا دوبارہ اجرا اس جبری تعطل کا ورم ختم ہونے کے بعد ا را است ۱۹۵۲ء کو لاہور سے افضل کا دوبارہ اجراء عمل میں آگیا۔حضرت مصلح موعود نے مولوی محد شفیع صاحب اشرف سابق مدینہ فاروق (لاہور) کو اس نئے دور کا قائمقام ایڈیٹر نامزد فرمایا جس کے چند روز بعد کراچی سے افضل کا پورا عملہ اور کاتب حضرات لاہور پہنچ گئے۔اور ۲۶ مارچ ۱۹۵۷ء سے جماعت کا یہ ترجمان دوبارہ جناب شیخ روشن دین صاحب تنویر کی ادارت س نکلنا شروع ہوا۔جناب مولوی محمد شفیع صاحب الشر اسے تحریر فرماتے ہیں :- جس وقت فاروق کا پہلا پرچہ شائع ہوا۔روز نامہ الفصل“ کا سارا سٹان اس وقت لاہور ہی میں تھا۔میں اپنی دنوں کراچی کی جماعت اس کوشش میں تھی کہ اُن کا اخبار الصلح " جو پندرہ روزہ تھا اور جیسے وہاں کے خدام بہت اخلاص کے ساتھ چلایا کرتے تھے اُسے روز نامہ کہ دیا جائے۔ار ما رچ کو جب کہ لاہور میں مارشل لاء لگا ہوا تھا بذریعہ فون ہم سب کو فوری طور پر ربوہ پہنچنے کی ہدایت ہوئی۔الفضل کا سارا اسٹاف جس میں ادارتی عملہ اور انتظامی کارکنان سب شامل تھے معہ ضروری ریکارڈ کے ربوہ پہنچا۔ربوہ پہنچ کر یہ ہدایت علی کو الفضل کا عملہ فورا کراچی کے لئے روانہ ہو جائے۔اور خاکسار حسب سابق لاہور جاکر فاریق جاری رکھے۔نیز یہ کہ اخویم مکرم شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی جو اس وقت لا ہو ر ہی میں تھے۔اور ادارہ الفضل کے رکن تھے میرے ساتھ کام کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔فاروق کے دو پرچے شائع ہو چکے تھے۔دوسرے پرچہ کی اشاعت کے وقت مارشل لاء لگ چکا ه مبلغ اسلام انڈونیشیا حال مربی سلسله احمد بیر اسلام آباد (پاکستان)