تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 291 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 291

الا مئی اے کو مسجد مبارک ربوہ میں پڑھایا خطبہ کے شروع میں حضور نے بتایا کہ۔میں نے جماعت سے بہت کچھ کہنا ہے لیکن میری صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ لمبا بولا سکوں اس لئے ان ضروری باتوں کو میں ابھی ملتوی کرتا ہوں میں نماز پڑھانے آج آیا ہوں لیکن چونکہ ابھی کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھا سکتا۔اس لئے میں بیٹھ کر نماز پڑھاؤں گا۔باقی درست حسب سنت کھڑے ہوکر نماز پڑھیں۔پچھلے دنوں تو میرے لئے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بھی سوال نہیں تھا کیونکہ میں نہ سر کو ہلاسکتا تھا اور نہ مجھکا سکتا تھا۔بلکہ حملہ کے شروع ایام میں تو میں صرف انگلی سے اشارہ کر سکتا تھا۔گویا چار پائی پر جسم پڑا ہے۔اور انگلی کے ساتھ ہی رکوع اور سجدہ ہو رہا ہے مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ سر ہلا سکوں پیالے اس کے بعد حضور نے اہل ربوہ کو مخاطب کر کے فرمایا :- اول ربوہ کی بنیاد کی غرض یہ تھی کہ یہاں زیادہ سے زیادہ نیکی اختیار کرنے والے اور دیندار لوگ آباد ہوں۔۔۔۔۔پس تم یہاں رہ کر نیک تونہ دکھاؤ اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو۔ہماری جماعت اس وقت کتنی مشکلات ہیں سے گزر رہی ہے۔۔۔۔۔۔تم ساری دنیا سے لڑائی مول لے کہ یہاں جمع ہوئے اور پھر بھی تقوی وطہارت اور عمل وانصاف اپنے اندر پیدا نہیں کر سکے تو تمہاری زندگی ایسی ہوئی کہ انہوں نے بھی تمہیں ٹھکرا دیا اور غیروں نے بھی تمہیں ٹھکرا دیا۔حالانکہ دنیا میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو اپنے ٹھکرا دیتے ہیں تو اسے غیروں کے پاس پناہ مل جاتی ہے۔اور اگر غیر ٹھکرا دیتے ہیں تو اپنے اسکی امداد کرتے ہیں لیکن تمہیں غیروں نے بھی ٹھکرادیا اور انہوں نے بھی ٹھکرا دیا۔پھر تمہیں یہاں رہنے کا کیا فائدہ حاصل نہوا ؟ ایسے حالات میں ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرد۔۔۔۔اگر تم اس کی رضا کو حاصل کر لو تو ساری مصیبتیں اور کوفتیں دور ہو جائیں اور راحت کے سامان پیدا ہو جائیں" سے ه الفضل ا احسان ۱۳ به ارجون ۱۹۵۳ صفحه ۳ - ۴۲ ته ایضاً صفحہ ۳-۴