تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 285
۲۶۸ آیا تھا اس طرح وہ چادر جس میں کہا جاتا ہے کہ ملزم ھاتوچھا کہ بیٹھا تھا وہ بھی پولیس نے پیش نہیں کی۔یہ قانون ہے (شاید بعض لوگ نہیں جانتے ہوں گے کہ ایسے فوجداری مقدمات میں گورنمنٹ مدعی ہوتی ہے۔خود مغروب کا کوئی حق نہیں ہوا کرتا کہ وہ بیچ میں بولے یا بلوا سکے۔بہر حال وہ چادر بھی نہیں پیش کی گئی جس کی وجہ سے مجسٹریٹ نے احمدی گواہوں پر شبہ کا اظہار کیا اور لکھا کہ اگر کوئی چادر تھی تو وہ پیش کیوں نہیں کی گئی۔حالانکہ چادر پیش کرنا نہ کرنا پولیس کا کام تھا۔ہمارے اختیار میں یہ بات نہ تھی۔اس دوران میں ڈاکٹر کئی دفعہ آتے رہے۔اپنی دنوں اس حملہ کے اثرہ کے نیچے یہ بھی ہوا کہ مجھے عارضی طور پر ذیا بیطیس کی شکایت ہوگئی۔ڈاکٹر پیشاب ٹیسٹ کرتے رہتے تھے تاکہ کوئی خرابی ہو تو پتہ لگ جائے۔ایک دن جو پیشاب ٹیسٹ کرایا تو معلوم ہوا کہ اسکے اندر شکر آتی ہے مگر ڈاکٹروں نے کہا۔ابھی آٹھ دس دن تک آپ نے گھیرائیں اگر تو تکلیف زخم کی وجہ سے ہوئی ہے اور ایسا ہو جاتا ہے۔تو آٹھ دس دن کے بعد ہٹ جائے گی۔اور اگر زخم کی وجہ سے نہ ہوئی تو ہم علاج کا فکر کریں گے۔اتنی دیر تک علاج کے فکر کی ضرورت نہیں۔چنانچہ دس بارہ دن کے بعد یہ تکلیف خدا تعالیٰ کے فضل سے ہٹ گئی اور پتہ لگ گیا کہ یہ صرف زخم کی شدت کی وجہ سے تھی۔خود اصل بیماری نہیں تھی۔اس کے بعد انہوں نے مجھے کہا کہ یہ زخم کی تکلیف آپ کو چھ مہینے تک چلے گی۔پہلے تین مہینوں میں تو آپ کو زخم کا آرام معلوم ہونا شروع ہوگا۔لیکن تین مہینے کے بعد یہ تکلیف بڑھنی شروع ہو جائے گی۔اور وہ نرود Nerve ) جو کٹ گیا ہے وہ اندر کسی جگہ پر اپنی جگہ بنائے گا۔اور کسی دوسرے نمرود سے جڑنے کی کوشش کرے گا۔جب وہ اس طرف کو چلے گا۔تو اس سے آپ کو گھبراہٹ ہوگی اور یوں معلوم ہوگا کہ اندر کوئی چیز حرکت کرتی ہے غرض مجھے انہوں نے پہلے سے کہہ دیا تھا مگر اتفاق کی بات ہے۔بعض دفعہ تشویش مقدر ہوتی ہے قریباً چھ مہینے تک جو انہوں نے وقفہ بتایا تھا۔اس میں مجھے کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی۔صرف چھوٹی چھوٹی حرکت ہوتی تھی لیکن چھٹے ماہ کے آخر میں اس قدر شدید تکلیف ہوئی کہ بعض دفعہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی مینڈک اند رکود رہا ہے اور چھلانگیں مارتا ہوا آگے جار ہا ہے۔اور با وجود جاننے کے گھبراہٹ پیدا ہو جاتی۔ڈاکٹروں سے پوچھا گیا کہ یہ کیا بات ہے تو کہا چی کے سرجن نے کہا کہ یہ تکلیف اس سے پہلے ہونی چاہیے تھی۔اور اب تک آرام آجانا چاہیئے تھا۔مگر ممکن ہے بڑی عمر کی وجہ سے اندمال کا وقت پیچھے ہو گیا ہو۔اس لئے ایک ماہ تک انتظار کریں۔اگر طبعی عارضہ ہوا تو یہ تکلیف ہٹ جائے