تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 284 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 284

برداشت کروں گا۔چنانچہ ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب آئے ، اور خواب آور ٹیکہ لگوا دیا۔پھر ایک گھنٹہ بارہ منٹ تک انہوں نے اپریشن کیا۔صفائی کی اور خون کے لوتھڑے نکالے۔انہوں نے بعد میں بتایا کہ حملہ سے ایک بڑا حصہ کٹ گیا ہے۔دو درمیانی سائز کی خون کی رگیں کٹ گئی ہیں۔اور سواد کا اپنے گہرا اور سواد کو اپنے الاعتر عضلات کا کٹ گیا ہے۔بہرحال کوئی ایک گھنٹہ بارہ منٹ کام کرنے کے بعد وہ فارغ ہوئے اور صبح چلے گئے۔دوسرے دن گردن وغیرہ کی درد کی تکلیف رہی اور چونکہ نہیں گردن کو بہلا نہیں سکتا تھا۔اس لئے ایک تکیہ ایسا بنا دیا گیا جس کے بچے میں شگاف کر دیا گیا تاکہ زخم کی جگہ تکیہ پرندے گے۔بہرحال آج کل حفظان صحت کے جو قوانین مقرر ہیں۔ان کے لحاظ سے ایک عرصہ مقررہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے آرام دے دیا۔پو را آرام تو کوئی بائیں ئیس دن میں آیا۔لیکن زخم کے ٹانکے شاید آٹھویں یا دسویں دن کھول دیئے گئے۔خون کے متعلق بھی دوستوں نے بتایا کہ جہاں تک آپ آئے ہیں۔وہاں تمام جگہ پر جیسے خون کے چھیڑے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔اسی طرح اچھے خاصے چھپڑ بنے ہوئے تھے۔وہ لباس جس پر خون لگا ہوا ہے ہم نے اب تک رکھا ہوا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے نشانوں کی مقدمات کا ایک ثبوت ہے حکومت کی طرف سے ان دنوں بڑی ہمدردی کا اظہار ہوا۔خود گورنر صاحب کی طرف سے بھی ہمدردی کی گئی۔وزیر اعظم صاحب کی طرف سے ایک دفعہ دوسرے نے اور پھر انہوں نے خود بھی فون کر کے بات کی۔اسی طرح کمشنر صاحب بھی آئے۔ڈی آئی جی بھی آئے۔ڈپٹی کمشنر بھی آئے سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی آئے لیکن حکومت ضلع کی مصلحت یہی معلوم ہوتی تھی۔کہ اس معاملے کو یہ فع دفع کر دیا جائے۔چنانچہ ایک موقع پر ایک بالا افسر نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ایسے مقدمات میں پولیس کی طرف سے محمود با عدالت میں کپڑے بھی پیش کئے جاتے ہیں۔وہ بھی ایک شہادت ہوتے ہیں۔کہ دیکھو یہ خون ے لتھڑے ہوئے ہیں۔اور ان سے پتہ لگ جاتا ہے کہ زخم کسی حد تک تھا مگر ہم ہے پولیس نے پہلے خود کپڑے مانگے لیکن جب پیشی کا وقت آیا تو با وجود ان کو کہنا کے بھیجنے کے کہ کپڑے منگوا لیں۔انہوں نے نہیں منگوائے گواہوں نے اب یہ خیال ظاہر کیا ہے۔کہ کپڑے اس وقت پیش ہوتے ہیں۔جب ان کے اندر سے زخم لگے۔میں تو قانون دان نہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ ہے تو پہلے ان کا آدمی کپڑے مانگنے کیوں ނ سے اس سلسلہ میں ۱۲ مئی ۱۹۵۷ء کو حضور کا بیان لالیاں عدالت میں ہوا۔