تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 271 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 271

۲۵۴ وسعت قلبی کا ثبوت دیا کہ اس نے عیسائیوں کو اپنی مسجد میں اپنی عبادت ادا کرنے کی اجازت دی۔اور جو ایک یہودی کے جنازے کے احترام کے طور پر کھڑا بھی ہو گیا۔وہ یقیناً آج کے ملازم کے شدید خلاف ہے۔آج کا ملا ازم یہ چاہتا ہے۔کہ اس کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔اگر اس اصول پر عمل کیا گیا۔تو غالبا پاکستان میں کسی کا گلا بھی سلامت نہیں رہے گا۔کیونکہ کوئی ایسا فرقہ نہیں جس نے دوسرے فرقے کو کافراور مرتد نہ قرار دیا ہو۔ابھی وقت ہے کہ ہمارے علماء اس قسم کی خطرناک فرقہ وارانہ ذہنیت پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔کیونکہ یہ وہ ذہنیت ہے۔جو پاکستان کی سالمیت پر ضرب کاری کی حیثیت رکھتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ تمام پاکستانی مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور انہیں ملک کے نظام میں برابری کا درجہ حاصل ہے۔اگر ہمارا مقصدیہ ہے کہ تمام پاکستان وحدت کی مضبوط بنیاد پر کھڑا ہو جائے تو پھر ہمیں یہ انا پڑے گا کہ کلمہ طیبہ ہی ہماری وحدت کی بنیاد بن سکتا ہے۔- روز نامہ پاکستان ٹائمز لاہور نے اپنے ۱۳ ماپر 9 سٹر کے ایڈٹیوریل نوٹ میں لکھا :۔Editorials on the Rabwah Incident (Excerpts) the life of Mirza Bashir-ud-Din The recent attempt on Mahmud Ahmad, Head of the Ahmadiyya Community۔will un- doubt dly be condemned by every section of opinion in Pakistan۔It is not yet known whether the assailant was motivated by a personal grudge or prompted by his streng disapproval of the Ahmadiyya commu۔the religious or political activities of Rabwah incident has no more nity۔In the former case significance than any other similar crime; but if the young man was guided by his political and religious convictions, his action deserves the serious attention of all those who are in a position to influence and mould public opinion۔the However