تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 242 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 242

۲۳۰ کہ یہ محض وہم ہے اُس نے دوہ دودھ پی لیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسے اب تک متواتر نیتیں آرہی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شبہ کیا گیا تھا وہ درست تھا۔لیکن با وجود اس کے کہ لوگوں نے مجھے ہلاک کرنے کی کئی کوششیں کیں اور ہر رنگ میں انہوں نے زور لگا یا۔چونکہ الہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ خدا کا سایہ میرے سرہ ہو گا۔اس لئے وہ ہمیشہ میری حفاظت کرتا رہا۔اور اس وقت تک کرتا رہے گا جب تک وہ کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے اپنی تکمیل کو نہ پہنچ جائے ہے قاتلانہ حملہ اورخارق علوت رنگ میں خدائی حفاظت کی سب واقعات کی شہر سے قبل کے ہیں اور متحدہ ہندوستان کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔قیام پاکستان کے ابتدائی چار سال میں اس قسم کا کوئی قابل ذکر واقعہ رونما نہیں ہوا۔مگر خدا کے از لی علم ہیں اس کا یہ نشان بھی مخفی تھا کہ کوئی سازشی ہاتھ حضرت مصلح موعود کو شہید کرنے کے لئے بھر اوپر وار کرے لیکن خدا کے فرشتے معجزانہ طور پر آپ کو بچالیں خدا کی بہ تقدیر ار ما شاہ کو پوری ہوئی جبکہ عبدالمجید نامی ایک شخص نے حضور پر قاتلانہ حملہ کیا مگر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل، اپنی قدرت اور اپنی صفت احیا کا غیر معمولی نظارہ دیکھا یا اور اس بندہ درگاہ عالی کو خارق عادت رنگ میں سبچالیا۔ر اس دردناک سانحہ کی تفصیل حضرت مولوی ابوالعطا صاحب جالندھر نئی نذیر الفرقان" کے الفاظ میں یہ ہے۔مورخ ارمان ۹۵۳د بروز بدھ قریباً پونے چار بجے مسجد مبارک ربوہ میں نماز عصر پڑھا کر ہمارے رو ام امام حضرت امیرالمومنین مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ مبصرہ واپس تشریعیت کے چاہتے تھے کہ محراب کے دروازہ پر اچانک ایک اجنبی نوجوان نے پیچھے سے جھپٹ کر آپ پر جاتو سے حملہ کر دیا۔۲۸ له الموعود تقریر حضرت مصلح موعود جلسه سالانه دسمبر ۳۳اره صفحه ۱۷۸ - ۱۸۲ عبد الحميد ولد منصب دار قوم جٹ چکا تے جج والا تھانہ صدر لائلپور (فیصل آباد) سابقہ وطن موضع جمال پور تھانہ کرتار پور تحصیل و ضلع جالندھر یہ شخص دو روز قبل ربوہ میں آیا تھا۔یہاں پہنچ کر اس نے پہلے توحضور سے ملاقات کر نیکی کوشش کی لیکن جب اس میں وہ ناکام رہا تو اس نے احمدی ہونے کا خیال ظاہر کیا بلکہ نام بھی کر دیا۔ان بعد اپنے ولی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسجد مبارک میں جا پہنچا۔المصلح ۱۹ر امان ۳۳۳ آبش / ۱۹ مارز ۹۵۳ایه) !