تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 241 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 241

۳۲۹ بھی نہیں نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ہر وقت پہرہ دار بیٹھے رہتے ہیں۔اس لئے میں واپس آگیا۔گھر اگر میرا اپنی بیوی سے کیسی بات پر جھگڑا ہو گیا، اور میں نے اُسے مار ڈالا۔یہ سارا واقعہ اُس نے عدالت میں نود بیان کیا حالانکہ میں کچھ علم نہیں تھا کہ کوئی شخص کس نیت اور ارادہ کے ساتھ ہمارے پاس آیا ہے۔لیکن ہر موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی اور اُسے حملہ کرنے میں ناکام رکھا۔تیسرا واقعہ یہ ہے کہ احرار کی شورش کے ایام میں میں ایک دن اپنی کو بھی دارالحمد میں تھا کہ ایک افغان لڑکا آیا اور اس نے کہلا بھیجا کہ کہیں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔میرے چھوٹے بچے اندر آئے اور انہوں نے بتایا کہ ایک لڑکا باہر کھڑا ہے اور وہ ملنا چاہتا ہے۔میں باہر نکلنے ہی والا تھا کہ میں نے شور کی آواز شنی میں حیران ہوا کہ یہ شور کیا ہے۔چنانچہ میں نے دریافت کر دیا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ یہ لڑکا قتل کے ارادہ ہے آیا تھا مگر عبدالاحد صاحب نے اُسے پکڑ لیا۔اور اس سے ایک چھرا بھی انہوں نے بر آمد کر لیا ہے۔میں نے عبدالاحد صاحب سے پوچھا کہ تمہیں کس طرح پتہ لگ گیا کہ یہ قتل کے ارادہ سے آیا ہے ؟ وہ کہنے لگے کہ یہ لڑکا پٹھان تھا اور ہم پٹھانوں کی عادات کو اچھی طرح جانتے ہیں جب یہ باتیں کر رہا تھا تو باتیں کرتے کرتے اس نے اپنی ٹانگوں کو اس طرح ہلایا کہ ہمیں فوراً سمجھ گیا کہ اس نے چھرا چھپایا ہوا ہے۔چنانچہ میں نے ہاتھ ڈالا تو پھر انکل آیا۔پولیس نے اس پر مقدمہ بھی چلایا تھا اور غالباً اُس نے اقرار کیا تھا کہ میں قتل کی نیت سے ہی قادیان آیا تھا۔اس موقعہ پر حضور نے فرمایا کہ میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ وہ اس جیلخانہ میں قید تھا جہاں میں افسر لگا ہوا تھا۔اور وہ کہتا تھا کہ میں پہلے دھرم سالہ تک اُن کو قتل کرنے کے لئے گیا تھا مگر مجھے کامیابی نہ ہوئی۔آخر میں قادیان گیا اور پکڑا گیا ) چوتھا واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ امر طاہر کے مکان کی دیوار پھاند کر ایک شخص اندر کودنا چاہتا تھا کہ لوگوں نے اُسے پکڑ لیا۔پولیس والے چونکہ ہمارے خلاف تھے اس لئے انہوں نے یہ کہ کہ اُسے چھوڑ دیا کہ یہ پاگل ہے۔پانچواں واقعہ بالکل تازہ ہے جو کل ہی ہوا ہے، کل ہمارے گھر میں دودھ رکھا ہوا تھا کہ میری بیوی کو شبہ پیدا ہوا کہ کسی نے دودھ میں کچھ ڈال دیا ہے۔چنانچہ اس شہر کی وجہ سے انہوں نے کہہ دیا کہ اس دودھ کو استعمال نہ کیا جائے۔ایک دوسری عورت جسے اس کا علم نہیں تھا یا اُس نے خیال کیا