تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 158 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 158

ہیں اپنے مولا سے جو مانگنا ہے مانگ لو۔وہ سماں اب مادی طور پر آنکھوں کے سامنے نہیں ہے لیکن اس کی نہ محو ہونے والی یاد آج بھی تازہ ہے اور ہمیشہ رہے گی اور انشاء اللہ سال بہ سال ہر جلسہ سالانہ کے بعد اس کے نقوش اُبھرتے چلے آئیں گے اور انہیں ایک ایسی جلاء اور تازگی ملتی چلی جائے گی کہ جو آنے والوں کیلئے بھی حیات نو کی ضمانت دے گی۔اگر بچہ ان تمام سعید روحوں میں سے کہ جنہیں بیچے پاک کے جھنڈے تلے جلسہ سالانہ کے ایام میں جمع ہونے کا شرف حاصل ہوا اکتاب وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ کے ربانی حکم کے تحت دور و دراز علاقوں میں واپس جا چکی ہیں لیکن یقینا ان کے دل اس پر کیف نظارے کی یاد سے معمور ہو ہو کر پکار رہے ہیں زمین وہ ہے کہ جس میں چشمے حیات کو کے اہل رہے ہیں " له یہ پرمعارف تقریہ قریباً ہ گھنٹے تک جاری رہی جسے ٹیپ ریکارڈر پر ریکارڈ کرنے کا تقریر کا ریکارڈ شرف حضرت ڈاکٹر بدر الدین احمد صاحب آفت بو نیو کوحاصل ہوا جیسا کہ محرم قاضی بدر بورنیو ہوا۔عزیز احمد صاحب فاضل کے کا بیان ہے کہ :۔و د مکرم سید عبد الرحمن صاحب امریکہ سے تشریف لائے ان کے ساتھ WIRE RECORDER تھا جس پر انہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کی جلسہ کی تقاریر ریکارڈ کیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی یہ تقاریر نہیں۔ربوہ میں مختلف جگہ پر یہ تقاریر سنائی گئیں۔اس کے بعد تحریک جدید انجمن احمدیہ نے دو WIRE RECORDER امریکہ امریکہ سے منگوائے جن پر ۱۹۵۲ء کی تقاریر خاکسار نے ریکارڈ کیں۔۱۹۵۳ء میں حضور رضی اللہ عنہ کی تقاریر مکرم ڈاکٹر بدر الدین صاحب آف بور نیو نے اپنے ٹیپ ریکارڈر پر ریکارڈ کیں۔۱۹۵۳ء میں ربوہ میں میلی نہ تھی یہ تقاریر جریر کے ذریعہ ریکارڈ ہوئیں۔تقاریہ کی سماعت سے معلوم ہوتا ہے کہ جزیر کی کو درست نہ تھی اس میں اتار چڑھاؤ تھا۔نه روزنامه المصلح کراچی مورخه ۱۵ صلح ۱۳۳۳ پیش / ۱۵ر جنوری ۶۱۹۵۲ ص ۳ به کے (ابن مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل ناظر اشاعت لٹریچر و تصنیف ربوه) حال کارکن نظارت امورها مه ربوه :