تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 157 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 157

۱۴۷ کرنا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت دُنیا میں قائم ہوتی ہے پس میری شنوا اور میری بات کے پیچھے چلو کہ میں جو کچھ کہ رہا ہوں وہ خدا کہہ رہا ہے میری آواز نہیں ہے میں خدا کی آواز تم کو پہنچا رہا ہوں تم میری مانو بخدا تمہارے ساتھ ہو۔خدا تمہارے ساتھ ہو۔خدا تمہارے ساتھ ہوا اور تم دنیا میں بھی عزت پاؤ اور آخرت میں بھی عزت پاؤ یہ ہے جناب مسعود احمد خان صاحب دہلوی رپورٹر، اصلاح ہے نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۳ رپورٹر الصلح کے تاثرات ۱۳۳۲ اہش کے ان مبارک ایام کی تفصیلی روداد المصلح (مورخہ ۱۵ار صلح ۱۳۳۳ ش ۱۵ر جنوری ۶۱۹۵۲) میں شائع کی جس میں حضور کے آخری خطاب سے متعلق تاثرات درج ذیل الفاظ میں سپرد قلم کئے :- مذکورہ بالا الفاظ کے ساتھ حضور ایدہ اللہ کا پُر جلال خطاب جونہی اختتام پذیر ہوا چاروں طرف سے بھیک ! خلیفہ ایسے لبیک !! کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔اس وقت حضور کی پر شوکت آواز سے یونی معلوم ہو رہا تھا کہ دشت و جبل گونج رہے ہیں اور انسان تو انسان آسمان پر فرشتے بھی سر بسجود پڑے ہیں۔سامعین کی کیفیت یہ تھی کہ ان پر ایک وارفتگی کا عالم طاری تھا اور وہ خدا تعالیٰ کا شکر بجالا رہے تھے کہ اس نے انہیں اس مبارک اجتماع میں شریک ہونے اور حضور ایده اللہ تعالیٰ کی قوت قدسیہ سے فیضیاب ہونے کی سعادت بخشی۔اس کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اجتماعی دعا کہ ائی یہ دعا بھی اپنے اندر ایک خاص رنگ رکھتی تھی میسح محمدی (علیہ السلام) کے ہزار ہا اتباع جذبہ ایثار و قربانی کی تجدید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا رہے تھے اور ہچکیوں اور سسکیوں کا ایک سیلاب تھا جو ان کے سینوں سے انڈا چلا آ رہا ہے۔در دو سوز میں ڈوبی ہوئی یہ آوازیں جلسہ گاہ کی فضا اور اس فضا کے ذرہ ذرہ کو مبہوت بنا رہی تھیں کہ خدا اور اس کے مقبول بندوں کا یہ راز و نیاز نہ معلوم کسی روحانی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو کیونکہ اس وقت درد و کرب کے ساتھ دعائیں آسمان کی طرف بلند ہو ہو کر دلوں کو اس یقین سے بریز گر رہی تھیں کہ آج قبولیت کے دروازے کھلے ہوئے له سیر روحانی جلد سوم الناشر الشركة الاسلامیہ لمیٹیڈ م۲۸۵ تا س کے حال ایڈیٹر" الفضل " ربوہ ح*