تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 156 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 156

۱۴۶ گو اس تقریر کا ذکر تاریخ احمدیت جلد ہشتم ماہ پر مختصراً کیا جا چکا ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کا آخری حصہ یہاں دوبارہ درج کیا جاتا ہے۔حضور نے فرمایا :- اس نوبت خانہ سے جو یہ نوبت بھی یہ کیا شاندار نوبت ہے پھر کیسی معقول نوبت ہے وہاں ایک طرف بینڈ بج رہے ہیں ٹوں ٹوں ٹوں ٹیں ٹیں ٹیں اور یہ کہتا ہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ الْبَرُ اشْهَدُ أن لا إله إلا اللهُ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ - حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ - حَتَّى عَلَى الْفَلَامِ کیا معقول باتیں ہیں کیسی سمجھدار آدمیوں کی باتیں ہیں بچہ بھی سنے تو وعدہ کرنے لگ جائے اور ان کے متعلق کوئی بڑا آدمی سوچے تو شرما نے لگ جائے۔بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ ٹوں ٹوں ٹوں ٹیں ٹیں ٹیں مگر افسوس کہ اس نوبت خانہ کو آخر مسلمانوں نے خاموش کر دیا۔یہ نوبت خانہ حکومت کی آواز کی جگہ چند مرثیہ خوانوں کی آواز بن کر رہ گیا اور اس نوبت کے بجنے پر جو سپاہی جمع ہوا کرتے تھے وہ کروڑوں سے دسیوں پر آگئے اور ان میں سے بھی ننانوے فیصد صرف رسماً اُٹھک بیٹھک کر کے چلے جاتے ہیں تب اس نوبت خانہ کی آواز کا رعب جاتا رہا۔اسلام کا سایہ کھیچنے لگ گیا۔خدا کی حکومت پھر آسمان پر چلی گئی اور دنیا پھر شیطان کے قبضہ میں آگئی۔اب خدا کی نوبت جوش میں آئی ہے اور تم کو ہاں تم کو ہاں تم کو خدا تعالیٰ نے پھر اس نوبت خاش کی ضرب سپرد کی ہے۔اسے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اسے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو!! اسے آسمانی بادشاہت کے موسیقار و !!! ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اِس زور سے بجاؤ کہ دنیا کے کان پھٹ جائیں۔ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو۔ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو کہ عرش کے پائے بھی لرز جائیں اور فرشتے بھی کانپ اُٹھیں تا کہ تمہاری دردناک آوازیں اور تمہارے نعرہ ہائے تکبیر اور نعرہ ہائے شہادت توحید کی وجہ سے خدا تعالیٰ زمین پر آ جائے اور پھر خدا تعالیٰ کی بادشاہت اس زمین پر قائم ہو جائے۔اسی غرض کے لئے میں نے تحریک جدید کو جاری کیا ہے اور اسی غرض کے لئے یکں تمہیں وقف کی تعلیم دیتا ہوں۔سیدھے آؤ اور خدا کے سپاہیوں میں داخل ہو جاؤ محمد رسول اللہ کا تخت آج مسیح نے چھینا ہوا ہے تم نے مشیح سے پھر وہ تخت محمد رسول اللہ کو دیتا ہے اور محمد رسول اللہ نے وہ تخت خدا کے آگے پیش