تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 155 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 155

۱۴۵ " بہت سا ضروری مواد موجود ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے لئے مطالعہ کی ایک خاص لائن مقرر کر لیں اور پھر اسے وسعت دینے اور تحقیق کرنے کی عادت ڈالیں ؛الے اس اہم ہے۔ایت کے بعد حضور نے چودہ زبانوں میں تراجم قرآن کی سکیم کا ذکر کر کے مخلصین جماعت کو تحریک جدید کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا :- دنیا کے پاس جو کچھ ہے بے شک وہ بعض جگہ پر امن بھی ہے لیکن اس امن کے ہوتے ہوئے بھی وہ دنیا اندھیرے میں ہے جب تک اسلام کا نور اُن لوگوں تک نہیں پہنچے گا اس وقت تک دنیا کا اندھیرا دور نہیں ہو سکتا۔سورج صرف اسلام ہے جو شخص اس سورج کے چڑھانے میں مدد نہیں کرتا وہ دنیا کو ہمیشہ کے لئے تاریکی میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسا انسان کبھی دنیا کا خیر خواہ یا اپنی نسل کا خیر خواہ نہیں کہلا سکتا۔اس وقت تک تحریک (جدید) کے ذریعہ سے جو تبلیغ ہوئی ہے اس کے نتیجہ میں تیس چالیس ہزار آدمی عیسائیوں سے مسلمان ہو چکا ہے اور یہ طاقت روز بڑھ رہی ہے اور اسے مضبوط کرنا ہر احمدی کا فرض ہے بلکہ ہر سلمان خواہ وہ احمدی نہ ہو اس کا بھی فرض ہے کہ اس کام میں مدد دے کے حضرت مصلح موعود نے جلسہ کے تیسرے روز جو پر شوکت اور پر جلال تیسرے دن کی پر شوکت ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا دا کار ترین کی تھی اور عالیم کہ وحانی کا نوبت خانہ کے عہد آفریں عنوان پر تھی۔اس تقریر میں حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود سے قائم ہونے والی آسمانی بادشاہت پر سیر حاصل روشنی ڈالی اور قرآنی علوم کے گویا دریا بہا دئیے اور سیرت نبوی ، تاریخ سلف، آئمہ سلف اور حضرت مسیح موعود کے ایمان افروز واقعات نهایت وجد انگیز رنگ میں بیان فرمائے۔اگرچہ پوری تقریر یورگن تھی مگر اس کے آخری مبارک کلمات تو صوبہ اسرافیل کا سارہ نگ رکھتے تھے جنہوں نے پر مردہ روحوں کو حیاتِ کو بخشی اور جماعت کے ہر طبقہ کو علم و عرفان کا تازہ ولولہ عطا کیا اور ان کے جوش عمل میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ه روزنامه المصلح" ۱۳ جنوری ۱۳/۶۱۹۵۲ صلح ۳۳۳اہش مس کالم ۶۳۱۲ له الفضل ۱۴ اپریل ۱۴/۶۱۹۶۰ شهادت ۱۳۳۹ هش صبا کالم ۲ :