تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 154
۱۴۴ درج کیا گیا تھا جو غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے وہ اتنا اہم ہے کہ اگر وہ واقعہ میں درست ہے تو اس سے آئندہ کے لئے بحث کے زاویے ہی بدل جاتے ہیں گویا وہ احمدیت کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس مضمون کو لکھنے والے لائل پور کے ایک کلرک شیخ عبد القادر ہیں۔ہر حال یہ حوالہ اور یہ مضمون بتاتا ہے کہ پرانے لڑ پچر میں ابھی ہمارے لئے نے عیسائیت کے ممتاز احمدی سکالر مکرم شیخ عبد القادر صاحب شیخ عبد الرب صاحب مرحوم نو مسلم سابق شو رام کے فرزند اکبر ہیں۔وہ اکو نٹس کلرک سے ترقی کر کے اب ایک مشہور گروپ آف کمپنیز کے ٹیکسیشن آفیسر ( TAXATION OFFICER) ہیں۔تیرہ چودہ سال کی عمر سے انہوں نے اسلام اور عیسائیت پر تحقیق شروع کی جو کہ بعد میں تقابل ادیان ، صحائف قمران اور قرآن حکیم اور تاریخ قدیم پر منتج ہوئی۔اُن کے کئی سو مقالات سلسلہ کے اخبارات و رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ان کی تین کتابیں فضل عمر فاؤنڈیشن سے انعام یافتہ ہیں :۔ا - اسماء الانبياء في القران ۲ - حضرت مریم صدیقہ ۳ - قرآن مجید اور مستشرقین یہ تینوں مقالات غیر مطبوعہ ہیں۔مطبوعہ رسائل میں سے چند ایک کے نام درج ذیل ہیں :- ا - اصحاب کہف کے صحیفے۔انجیل مرقس کا آخری ورق۔بدھ کی تعلیمات اشوک کے کتبوں ہیں۔۲ - صحائف قمران - قبطی الجبيل علاوہ ازیں قرآن مجید اور اکتشافات جدیدہ پر ان کی تحقیق جاری ہے اور پنجاب یونیورسٹی کے اُردو دائرۃ المعارف میں آپ کے کئی نوٹ شائع ہو چکے ہیں۔انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی بعد از صلیب زندگی پر نصف صدی تک تحقیق کی ہے جو کہ بیسیوں مقالات کی صورت میں پھیلی ہوئی ہے۔اس موضوع پر انہوں نے لندن کی لیکن الا قوامی کانفرنس میں مورخہ ۳ر جون ۱۹۷۸ء کو ایک مقالہ پڑھا جو کا نفرنس کی مطبوعہ روداد (TRUTH ABOUT THE CRUCIFIX10) کے صفحہ ۱۲۹ تا ۱۴۹ میں شامل اشاعت ہے :