تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 149
۱۳۹ دوسرے دن ( ۲۷ دسمبر / فتح ) کی تقریر کے شروع میں حضور دوسرے دن کی بصیرت افروز تقریر نے احمدی مردوں اور عورتوں دونوں کو ارشاد فرمایا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے کاروبار ملازمت اور روزگار کے کام کے علاوہ اپنے ہاتھ سے کام کر کے کچھ زائد آمد پیدا کر نیکی کوشش کرے اور یہ نہ ائد آمدنی اگر غریب ہو تو اس کا ایک حصہ اور امیر ہونے کی صورت میں ساری کی ساری سلسلہ کو بطور چندہ پیش کر دیے۔ازاں بعد حضور نے ربوہ کی زمین اور طریق ملاقات کے بارے میں بعض ہدایات دینے کے بعد عالم اسلام کی دردناک صورت حال کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا :- اس وقت عالم اسلام نہایت نازک دور میں سے گزر رہا ہے۔گزشتہ تین سو سال میں مسلمانوں کی حالت یہ رہی ہے کہ وہ تیزی کے ساتھ نیچے گر رہے تھے لیکن انہیں اپنے اس تنزل کا احساس زیادہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک دوسرے کو گرانے میں بھی لذت محسوس کرتے تھے۔درد اور تکلیف تو ہوتی تھی مگر اس کا احساس کم تھا۔اس کے بعد یہ دور آیا کہ مسلمانوں کو اپنے تنزل اور رفتہ عالی کا احساس ہوا اور ترقی کرنے کا جذبہ پیدا ہوا اس جذبے کے تحت انہوں نے جد وجہد شروع کی۔کچھ دشمن طاقتوں کے اختلاف اور کچھ اپنے اس جذبہ کی وجہ سے مختلف ممالک میں وہ آزاد تو ہو گئے لیکن آزاد ہو جانے کے باوجود اب تک ان کے باہمی اختلافات دور نہیں ہوئے اور یہ نہایت خطرناک امر ہے۔اس لحاظ سے یہ دور پہلے دور سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ پہلے تو انہیں اپنی حالت کا علم نہ تھا اس لئے وہ اصلاح سے غافل تھے لیکن اب اپنی حالت کو محسوس کرنے کے باوجود وہ اپنی اصلاح پر قادر نہیں ہو رہے۔پھر ان کی مشکلات کچھ اس نوعیت کی ہیں کہ ان کو حل کرنے کی جو راہ بھی تجویز کی جائے وہ خطرات سے خالی نہیں۔مثلاً مصر میں سویزہ کا جھگڑا ہے۔انگریز وہاں اس لئے رہنا چاہتا ہے کہ مشرق وسطی میں روس کے حملہ کا دفاع کیا جاسکے۔اگر یہ دفاع کمزور ہو جائے تو روس اپنے ارادہ میں کامیاب ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں کمیونزم وہاں پر پھیلے گا اور ایک مسلمان طبعی طور پر چو نکہ کمیونزم کا مخالف ہے اس لئے وہ کبھی اس کو پسند نہیں کرے گا لیکن دوسری طرف اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر مسلمان مصر کو آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔اگر غیر ملکی فوجیں موجود رہیں تو ملکی آزادی کبھی قائم نہیں رہ سکتی۔پس سویز کے مسئلہ میں ایک طرف روس کا کمیونزم نظر آرہا ہے دوسری طرف مصر کی آزادی خطرہ میں پڑتی ہوئی نظر