تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 129
بنالیا تھا اور بعض خاص قسم کی تجارتیں اس شہر میں چل رہی تھیں۔ہم نے اس وقت یہ کہا تھا کہ جالندھر، پانی پت اور لدھیانہ والوں کو بھی الگ الگ قصبات آباد کرنے چاہئیں تا کہ خاص قسم کی تجارتیں اور صنعتیں جو ان شہروں میں چل رہی تھیں دوبارہ جاری کی جاسکیں۔اگر انہیں الگ الگ جگہوں پر بسایا گیا تو وہ مخصوص تجارتیں اور صنعتیں تباہ ہو جائیں گی ہم نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ زبان اگر دو کو زندہ رکھنے کے لئے اس کے بولنے والوں کو ایک علیحدہ علاقہ میں آباد کیا جائے اور پھر جولوگ قربانی کر کے وہاں آباد ہو سکیں آباد ہو جائیں۔وہاں وہ اپنے سکول بنائیں کا لج بتائیں تا کہ زبان صاف رہے۔یکی نے کہا تھا کہ اس کے لئے چالیس میل کے رقبہ کی ضرورت ہے اس لئے کہ قریب کا علاقہ زبان پر اثر ڈالتا ہے اگر بیچ میں شہر آباد ہوا اور اردگرد بھی اس زبان کے بولنے والے آباد ہوں تو شہر کی زبان محفوظ رہے گی بلکہ ممکن تھا کہ اردگرد کے علاقہ میں بھی اُردو زبان پھیل جاتی اور آہستہ آہستہ اکتالیسویں میل کے علاقہ کے لوگ بھی اُردو بولنے لگ جاتے۔پھر بیالیسویں میل کے علاقہ والے بھی اُردو بولنے لگ جاتے۔پھر تینتالیسویں میل کے علاقہ والے بھی اردو بولنے لگ جاتے کیونکہ اگر دو ایک علمی زبان ہے اور علمی زبان جلد پھیل جاتی ہے۔غرض ہم تو یہ تحریک کر رہے تھے کہ ہر تجارت، صنعت اور پیشہ سے تعلق رکھنے والے لوگ الگ الگ قصبات آباد کریں بلکہ اُردو دان بھی ایک الگ علاقہ میں آباد ہوں مگر الٹا ہم پر یہ الزام لگایا گیا کہ ہم حکومت کے خیر خواہ نہیں اور اس وجہ سے الگ آباد ہونا چاہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ شہروں کا بسانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔تخلق بادشاہ نے اپنے نام پر تعلق آبا دبسانا چاہا لیکن باوجود اس کے کہ وہ سارے ہندوستان کا بادشاہ تھا وہ یہ شہر آباد نہ کہ یہ کا۔پس نئی جگہوں پر شہر بسانا اور پھر کسی سکیم کے ماتحت شہر بسانا آسان کام نہیں ہوتا۔بعض شہر اتفاقی طور پر بن جاتے ہیں لیکن ارادہ کے ساتھ شہر بسانا ہو تو وہ نہیں بستا۔لوگوں نے ہزاروں شہر بسائے جن میں سے صرف بیسیوں رہ گئے ہیں باقی سب اُجڑ گئے۔صرف بغداد ایسا شہر ہے جیسے مسلمانوں نے ارادہ کے ساتھ بسایا تھا اور وہ بس گیا لیکن جو رونق اس کی پہلے زمانہ میں تھی اب نہیں رہی۔کسی زمانہ میں اِس کی آبادی چالیس لاکھ تھی اب دو لاکھ ہے۔اسی طرح بعض اور شہر بھی تھے جو بسائے گئے لیکن ان میں سے اکثر اُجڑ گئے اور ان کی جگہ ایسے شہر ترقی کر گئے جو