تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 128
۱۲۱ ہیں کہ دیکھیں یہ بچہ کس طرح آسانی کے ساتھ پنجابی زبان بولتا ہے۔گویا خواجہ میر درد کا نواسہ ، مرزا غالب اور مومن خان کا بھانجا میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے، کی بجائے میرے ڈڈھ وچہ پیڑ ہوندی اسے کہتا ہے اور ماں ہنس کر کہتی ہے دیکھیں ہمیں تو پنجابی بولنی نہیں آتی مگر یہ بچہ خوب پنجابی بولی سکتا ہے۔پس یکس نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ گورنمنٹ تھل کا علاقہ آباد کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیئے کہ مظفر گڑھ کے علاقہ میں چالیس میل کا علاقہ صرف اُردو دانوں کے لئے وقف کر دے تاکہ جو لوگ قربانی کر کے وہاں آباد ہو سکیں آباد ہو جائیں اور اس طرح اُردو زبان محفوظ ہو جائے لیکن شاید وہ اگر دوران مجھ سے زیادہ عقلمند تھے کہ وہ اکٹھے ایک جگہ آباد نہ ہوئے تا کل کوئی معترض یہ نہ کہہ سکے کہ ان کا ایک علاقہ میں آباد ہونا حب الوطنی کے خلاف ہے حالانکہ ایک خاص قسم کی تنظیم اور مقصد کو سامنے رکھنے والے لوگ بالعموم ایک ہی جگہ پر اکٹھے رہتے ہیں اور ان کا ایسا کرنا معاشرتی اور اقتصادی حالت کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔کوئی جماعت اخلاق کی تعلیم دیتی ہے کوئی جات تصوف کی طرف مائل ہوتی ہے کوئی جماعت احادیث کو رواج دینا چاہتی ہے اور اسے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اکٹھا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً اہلحدیث کی ایک شاخ نے دیوبند آباد کیا تھا۔اسی طرح بعض جگہیں دوسرے اہل حدیث نے بنائی ہیں۔مثلاً حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی کے مریدوں نے بعض جگہیں بنائی ہیں کیونکہ ان کا اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اکٹھے رہنا ضروری تھا اگر وہ لوگ الگ الگ جگہوں پر پھیلے ہوئے ہوں تو وہ سکول اور کار ہو کس طرح چلا سکتے ہیں۔اگر وہ لاہور، گوجرانوالہ گجرات اور لائل پور میں پھیلے ہوئے ہوں اور ان کا کالج لاہور میں ہو تو کیا ان کے لڑکے ان تمام ضلعوں سے لاہور جائیں گے تاکہ وہ اپنے کالج میں تعلیم حاصل کر سکیں یا اگر ایک ہی مقصد رکھنے والے لوگ ضلع لاہور کے مختلف شہروں میں آباد ہوں تو کیا ان کے بچے کسی ایک پرائمری سکول میں اکٹھے ہو سکتے ہیں۔اور اگر وہ ایک شہر میں رہتے ہوں تو ان کا کالج چل سکتا ہے۔اگر وہ ایک محلہ میں رہتے ہوں تو ان کا پرائمری سکول چل سکتا ہے لیکن اتنی چھوٹی سی بات بھی ہمارے ملک کے بعض افراد کی سمجھ میں نہیں آتی۔ہم نے تو اُس وقت شور مچایا تھا کہ امرتسر والوں کو بھی الگ شہر آباد کرنا چاہیئے کیونکہ انہوں نے ایک خاص قسم کا ماحول