تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 121
۱۴ محاسب میں تشریف لے گئے جہاں مکرم میاں عبد الباری صاحب محاسب صدر انجمن احمدیہ نے حضور کا استقبال کیا۔پھر حضور دفتر بهشتی ،مقبره، دفتر تالیف و تصنیف، دفتر آڈیٹر، دار القضاء اور دفتر امور عامہ میں تشریف لے گئے بہشتی مقبرہ کے دفترمیں مکرم بابو عبد العزیز صاحب سیکرٹری مجلس کارپرداز، دفتر تالیف و تصنیف میں مولانا جلال الدین صاحب شمس انچارج صیغه تالیف و تصنیف ، دفتر آڈیٹر میں مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ ، دار القضاء میں مولانا تاج الدین صاحب ناظم دار القضاء اور امور عامہ میں مکرم کیپٹن ملک خادم حسین صاحب قائمقام ناظر امور عامہ نے حضور کا استقبال کیا اور اپنے اپنے دفاتر کا معائنہ کروایا۔اس معائنہ سے فارغ ہونے کے بعد حضور احاطہ دفاتر صدر انجمن احمدیہ میں اس سائبان کے نیچے تشریف لے گئے جہاں صحابہ کرام اور سلسلہ کے مہمانان اور تعلیمی ادارہ جات کے نمائندے اور ربوہ کے مدعو حضرات کرسیوں پر تشریف رکھتے تھے۔تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کے تمام کارکنان بھی اس جلسہ اور اجتماعی دعا میں شرکت کے لئے اپنے اپنے دفاتر سے آکر شریک ہو گئے تھے۔حضور نے سٹیج پر تشریف فرما ہو کہ دفاتر صدر انجین احمدیہ کا نقشہ ملاحظہ فرمایا اور پھر ایک وسیع ہال کی تعمیر کے متعلق جس کی تجویز قادیان میں ہوئی تھی مکرم جناب ناظر صا حب اعلیٰ سے گفت گو فرماتے رہے۔یہ ہال دفا تر صدر انجمن احمدیہ کے غربی جانب کے میدان میں بنا تجویز ہوا تھا۔اس موقع پر حضور نے صدر انجمن احد یہ کے دفاتر کے لئے مزید دو بڑے اور چھوٹے کمروں کی منظوری بھی مرحمت فرمائی کیونکہ دفاتر کی موجودہ عمارت اپنی وسعت کے باوجود صدر انجمن کی وسیع ضروریات اور بڑھتے ہوئے عملہ کے لئے ناکافی ثابت ہو رہی تھی اور با وجود اس کے کہ بعض کمروں میں دو دو دفتر قائم کئے گئے تھے پھر بھی مشکل کا سامنا ہو رہا تھا۔معائنہ کے بعد اجتماعی دعا کا پروگرام تلاوت قرآن مجید سے شروع ہوا جو جناب ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے خوش الحانی سے کی۔آپ نے اس موقعہ پر سورۃ الفتح کے پہلے رکوع کی تلاوت کی جو ایک نہایت ہی موزوں انتخاب تھا۔اس کے بعد شیخ رشید احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حسب ذیل نظم پڑھ کر سامعین کو محظوظ کیا۔سے ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکا یا ہم نے ؟ کوئی دیں دین محمد سانہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلائے : یہ ثمر بارغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ازاں بعد صاحبزادہ مرزہ امبارک احمد صاحب نے تحریک جدید کی طرف سے ایڈریس پیش کیا جن میں