تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 120
تجارت میں تشریف لے گئے جہاں قریشی عبد الرشید صاحب وکیل التجارت نے اپنے دفتر کا معائنہ کروایا۔پھر حضور وکالت تعلیم، وکالت صنعت اور دفتر ریویو آن ریجنز میں تشریف لے گئے جہاں میاں عبد الرحیم احمد صاحب وكيل التعلیم موجود تھے۔بعد ازاں حضور نے دفتر سندھ ویجی ٹیبل آئیل ، نائب وکالت تصنیف اور وکالت قانون کے دفاتر کا معائنہ فرمایا اور کمیٹی روم میں تشریف لائے جہاں غیر ملکی طلباء اور شاہدین جمع تھے۔اس کے بعد دفتر سیکر ٹری مجلس تحریک جدید، دفتر وکیل الدیوان، دفتر وکالت علیا، دفتر وکالت زراعت اور دفتر آڈیر تحریک جدید کا معائنہ فرمایا۔دفتر آڈیٹرمیں بابو محمد اسمعیل صاحب معتبر آڈیٹر تحریک جدید موجود تھے۔پھر حضور نے دفتر امانت جائیداد ملاحظہ فرمایا جہاں ماسٹر فقیر اللہ صاحب افسر امانت موجود تھے۔پھر حضور نے دفتر وکیل المال ثانی دیکھا جہاں قاضی محمد رشید صاحب وکیل المال موجو دتھے۔پھر دفتر وکیل المال اول میں حضور تشریف لے گئے جہاں چوہدری برکت علی خاں صاحب وکیل المال اول نے حضور کو اپنے دفتر کا معائنہ کروایا۔اس معائنہ سے فارغ ہونے کے بعد حضور پھر دفاتر تحریک جدید کے ہال میں تشریف لے گئے۔اس وقت تمام کا رکنان تحریک جدید کے ہال میں جمع ہو گئے اور حضور نے دفاتر تحریک جدید کے بابرکت ہونے کے لئے افتتاحی دعا فرمائی۔دعا سے فارغ ہو کر حضور ساڑھے دس بجے دفاتر صدرانجمن احمدیہ میں تشریف لائے اور تمام دفاتر کا معائنہ فرمایا اس وقت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ناظر اعلیٰ اور حضرت مرز ا عزیز احمد صاحب ایڈیشنل ناظر اعلی صدر انجمن احمدیہ اور صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب بھی ساتھ تھے۔انجمن کا باقی عملہ اپنے اپنے کمروں میں کام کرتا رہا۔حضور سب سے پہلے عمارت کے غربی جانب نظامت جائیداد کے دفتر میں تشریف لے گئے جہاں چوہدری صلاح الدین صاحب ناظم جائیداد اپنے عملہ کے ساتھ موجود تھے پھر حضور نے نظارت علیا او حفاظت مرکز کے دفاتر کا معائنہ فرمایا۔اس کے بعد حضور انگریزی ترجمہ القرآن کے دفتر میں تشریف لائے جہاں ملک غلام فرید صاحب ایم۔اسے موجود تھے۔پھر دفتر تعلیم و تربیت میں تشریف لے گئے یہاں مولوی محمد دین صاحب ایم۔اسے ناظر تعلیم و تربیت اپنے عملہ کے ساتھ موجود تھے۔اس کے بعد حضور نے نظارت دعوۃ و تبلیغ کے دفتر کا معائنہ فرمایا جہاں سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر دعوة و تبلیغ تشریف رکھتے تھے۔پھر دفتر بیت المال میں تشریف لے گئے جہاں خان صاحب مولوی فرزند علی خان صاحب ناظر بیت المال اپنے عملہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔اس کے بعد حضور خزانہ اور دفتر