تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 107
آرگنائزیشن ہو اس کے بغیر مساوات قائم نہیں ہوسکتی۔اسلام آیا ہی اس لئے تھا کہ وہ ایک ارگ رزین اور ڈی سہیلن قائم کرے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی تھی کہ یہ ڈسپلن ظالمانہ نہ ہو اور افراد اپنے نفسوں کو دبا کر رکھیں تا کہ قوم جیتے لیکن چند ہی سالوں میں مسلمانوں میں یہ سوال پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ خزانے ہمارے ہیں اور اگر حکام نے ان کے راستہ میں کوئی روک ڈالی تو انہوں نے ان کو قتل کرنا شروع کر دیا۔یہ وہ روح تھی جس نے مسلمانوں کو خراب کیا۔انہیں یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ یہ حکومت الہیہ ہے اور اسے خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس لئے اسے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ سورہ نور میں فرماتا ہے کہ خلیفے ہم بنائیں گے لیکن مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں اور جب انہوں نے ا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں تو خدا تعالیٰ نے کہا اچھا اگر خلیفے تم نے بنائے ہیں تو اب تم ہی بناؤ چنانچہ ایک وقت تک تو وہ پہلوں کا بار ا ہو ا شکار یعنی حضرت ابو بکر حضرت عمریض ، حضرت عثمان اور حضرت علی کا مارا ہو ا شکار کھاتے رہے لیکن مرا ہو ا شکار ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔زندہ بکرا، زندہ بکری، زندہ مرغا اور زندہ مرغیاں تو ہمیشہ ہمیں گوشت اور انڈے کھلائیں گی لیکن ذبح کی ہوئی بکری یا مرغی زیادہ دیر تک نہیں جا سکتی کچھ وقت کے بعد وہ خراب ہو جائے گی۔حضرت ابوبکر معرض عثمان اور علی کے زمانہ میں مسلمان تازہ گوشت کھاتے تھے لیکن بیو تونی سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ چیز ہماری ہے۔اس طرح انہوں نے اپنی زندگی کی روح کو ختم کر دیا اور مرغیاں اور بکریاں مُردہ ہو گئیں۔آخر تم ایک ذبح کی ہوئی بکری کو کتنے دن کھا لولے۔ایک بکری میں دس بارہ سیر پا نچھپیں نہیں سیر گوشت ہوگا اور آخر وہ ختم ہو جائے گا پس وہ بکریاں مردہ ہو گئیں اور مسلمانوں نے کھا پی کہ انہیں ختم کر دیا۔پھر وہی حال ہوا کہ ہتھ پرانے کھونٹڑے بنے ہورہی ہے وہ ہر جگہ ذلیل ہونے شروع ہوئے، انہیں ماریں پڑیں اور خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوا۔عیسائیوں نے تو اپنی مردہ خلافت کو آج تک سنبھالا ہوا ہے لیکن ان بد بختوں نے زندہ خلافت کو اپنے ہاتھوں گاڑ دیا اور یہ حض عارضی خواہشات ، دنیوی ترقیات کی تمنا اور وقتی جوشوں کا نتیجہ تھا، خدا تعالیٰ نے جو وعدے پہلے مسلمانوں سے کئے تھے وہ وعادسے اب بھی ہیں۔اُسنے جب وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ امَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ