تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 105
علاقوں میں بھی پھیلنی مشروع ہوئی۔فتح مکہ کے پانچ سال بعد ایرانی حکومت پر حملہ ہو گیا تھا اور اس کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا تھا اور چند سالوں میں رومی سلطنت اور دوسری سب حکومتیں تباہ ہو گئی تھیں۔اتنی بڑی فتح اور اتنے عظیم الشان تغیر کی مثال تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتی۔تاریخ میں صرف نپولین کی ایک مثال ملتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جو تعدا د اور قوت ہیں اس سے زیادہ ہو۔جرمنی کا ملک تھا مگر وہ اس وقت ۱۴ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا اس طرح اس کی تمام طاقت منتشر تھی۔ایک مشہور امریکن پریزیڈنٹ سے کسی نے پوچھا کہ جرمن کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو اس نے کہا ایک شہر ہے دوتین لومڑ ہیں اور کچھ چو ہے ہیں۔شیر سے مرا درشیا تھا۔لومڑ سے مراد دوسری حکومتیں اور چوہوں سے مراد جرمن تھے۔گویا جو منی اس وقت ٹکڑے ٹکڑے تھا۔روس ایک بڑی طاقت تھی مگر والے روس کے ساتھ ٹکرایا اور وہاں سے ناکام واپس لوٹا۔اس طرح انگلستان کو بھی فتح نہ کر سکا اور انجام اس کا یہ ہوا کہ وہ قید ہو گیا پھر دوسرا بٹر اشخص میٹر آیا بلکہ دو بڑے آدمی دو سکوں میں ہوئے ہٹلر اور مسولینی۔دونوں نے بے شک ترقیات حاصل کیں لیکن دونوں کا انجام شکست ہوا مسلمانوں میں سے جس نے یکدم بڑی حکومت حاصل کی وہ تیمور تھا اس کی بھی یہی حالت تھی۔وہ بے شک دنیا کے کناروں تک گیا لیکن وہ اپنے اس مقصد کو کہ ساری دنیا کو فتح کرلے پورا نہ کرسکا مثلاً وہ چن کو تابع کرنا چاہتا تھا لیکن تابع نہ کرسکا اور جب وہ مرنے لگا تو اُس نے کہا میرے سامنے انسانوں کی ہڈیوں کے ڈھیر ہیں جو مجھے ملامت کر یہ ہے ہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی آدم سے لے کر اب تک ایسے گذرے ہیں جنہوں نے فرد واحد سے ترقی کی تھوڑے سے عرصہ میں ہی سارے عرب کو تابع فرمان کر لیا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے ایک خلیفہ نے ایک بہت بڑی حکومت کو توڑ دیا اور باقی علاقے آپ کے دوسرے خلیفہ نے فتح کرلئے۔یہ تغیر جو واقع ہوا خدائی تھی کسی انسان کا کام نہیں تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یعنی نپولین