تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 94 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 94

محترمہ ام الله خورشید صاحبه مدیرہ ماہنامہ مصباح" ربوہ نے اپنے ادار یہ خصوصی میں لکھا :۔در تمام احمدی بہنوں کو نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ مورخہ شہ کو دیس بجے رتن باغ لاہور میں حضرت سیدہ ام داؤ د احمد صاحبہ بیگم حضرت میر محمد اسحق صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ ایک طویل اور تکلیف دہ علالت کے بعد اپنے مولائے حقیقی سے جائیں۔انا للہ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ حضرت سیدہ ایک بے موصہ سے بیمار چلی آرہی تھیں۔بالآخر آپ کے گلے کی نالی بند ہوگئی گلے اور معدہ میں خود اک جانا رک گئی۔پھر معدہ میں خورد اکس نلکی کے ذریعہ پہنچائی جاتی رہی لیکن آپکی طبیعت دن بدن گرتی ہی گئی اور آخر اس صدمہ جانگاه پر منتج ہوئی۔حضرت سیدہ مرحومہ صالحہ قانتہ اور مخلصہ مومنہ تھیں۔خالص دینی روح رکھتی تھیں۔آپ کو ہر قدم پر اللہ اور اس کے رسول کی رضا مقدم ہوتی۔اپنا ہر لمحہ خدمت دین کے لئے وقف سمجھتیں۔آپ ہی کی روحانی تربیت کا نتیجہ ہے کہ آپ کے تینوں صاحبزاد سے دینی اور دنیوی اعلیٰ ڈگریوں کے ساتھ جامعتہ المبہترین کے فارغ التحصیل شاہد ہیں اور مستقبل قریب میں مفوضہ دینی خدمات بجالانے کے لئے مختلف ممالک میں جانے کے لئے تیار ہیں۔آپ لجنہ اماءاللہ کی روح رواں تھیں چنانچہ مدت سے لجنہ کی نائب صدر چلی آرہی تھیں مصباح کی آپ بہت ہی مہربان سرپرست واقع ہوئی تھیں جب تک زندہ رہیں ادارہ کی بہت سی مشکلات میں ہاتھ بٹاتی رہیں لیکن افسوس اب ہم اس قیمتی وجود کے ہمدردانہ اور شفقانہ سلوک سے گلیہ محروم ہوگئی ہیں۔اسے خدا ! ہماری تیری بارگاہ میں نہایت ہی عاجزانہ التجا ہے کہ حضرت سیدہ کے مراتب میں بلندی عطا فرما اور آپ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔آمین ! مرحومہ موصوفہ کی نعش اسی دن رات کے آٹھ بجے ربوہ لائی گئی۔دوسرے دن مورخہ کو آٹھ بجے صبح حضرت اقدس امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے با وجود علالت طبع کے مسجد مبارک کے غربی جانب ایک جم غفیر سمیت نماز جنازہ پڑھائی۔بجے حضرت سیدہ کے تابوت کو بہشتی مقبرہ کے احاطہ خاص میں قبر میں اتارا گیا اور ۹ بجے آپ کی قبر پر حضر ت سے جزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اسے نے حاضرین سمیت دعا فرمائی۔اللَّهُمَّ اغْفِرُ لَهَا وَارْحَمْهَا