تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 93 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 93

AA رنگ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی رنگین فرمایا تھا۔جہاں وہ اپنے جلیل القدر شوہر کی زندگی میں ان کے شانہ بشانہ خدمت دین ، خلق اللہ کی فلاح ، بتائی اور مساکین کی نگہداشت اور غرباء کی امداد کے لئے مصروف رہیں۔ان کی وفات کے بعد بھی انہوں نے اسی جذبہ کے ساتھ اس عظیم الشان مشن کو جاری رکھا اور اپنے علم و عمل سے جماعت کی مستورات کے لئے اپنے آپ کو نہایت ہی مفید وجود ثابت کیا۔جلسہ سالانہ پر ہر سال عورتوں کے طعام و قیام کا انتظام آپ ہی کی نگرانی میں ہوتا تھا اور جس طرح حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ مردوں کے لئے تمام انتظامات حسن و خوبی سے فرماتے تھے بالکل یہی انداز یہاں تھا اور ہم یقین سے کہ سکتے ہیں کہ جس طرح ہر سال ہمیں جاب سالانہ پر حضرت میر صاحب یاد آجایا کرتے ہیں اسی طرح عورتیں بھی اب انہیں فراموش نہ کر سکیں گی۔علم و فضل کے اعتبار سے بھی ان کا مقام بہت بلند تھا۔حضرت پیر منظور محمد صاحب کی صاحبزادی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ پایا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالی عنہ نے خود ان کو تعلیم دی تھی اور پھر حضرت میر صاحب نے اپنی زندگی میں جس طرح ان کی تربیت اور تعلیم کا انتظام فرمایا اس سے تو یہ جو ہر قابل اور بھی چمک اُٹھا تھا۔احمدی عورتوں میں تعلیمی ترقی کے شوق کو بڑھانے کے لئے انہوں نے بطور اسوہ جب معمولی محنت کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے "مولوی" کا امتحان دیا تو آپ یونیورسٹی بھر میں اول رہی تھیں۔حدیث اور قرآن مجید اور حضرت مسیح موعود علی الصلواۃ والسلام کی کتب کا جو علم آپ کو تھا وہ عورتوں کو تو کیا مردوں میں سے بھی بہت تھوڑوں کو حاصل ہے۔کئی بار آپ نے عورتوں کے سالانہ جلسوں کی صدارت فرمائی۔کئی بار عورتوں میں حضرت میر صاحب کی طرح قرآن مجید اور احادیث کا درس دیا۔تقریر اور تحریر کے ذریعہ عورتوں کی بیداری کے سامان پیدا کئے۔جماعت کے سینکڑوں نادار بچوں کے ساتھ ماؤں سے بڑھ کر سلوک کیا اور پھر سالہا سال سے لجنہ اماء اللہ کی نائب صدر ہونے کی حیثیت سے احمدی عورتوں کی تنظیم میں بھی آپ نے نمایاں کام کر کے دکھایا۔لے ے روزنامہ المصطلح " کراچی ار تبوک ۱۳۳۲ مش رستمبر ۶۱۹۵۳ ص :