تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 89 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 89

کی وفات ہے۔آپ کی کنیت ام داؤد اور اسم گرامی صالحہ خاتون تھا۔آپ حضرت صوفی احمد جان صاحب در میا نوشی کی پوتی اور حضرت پیر منظور محمد صاحب مصنف قاعدہ لیتر نا القرآن کی صاحبزادی تھیں۔آپ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ کی شادی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیه الصلوة و السلام کو قبل از وقت بذریعہ رویا بشارت دی گئی۔یہ آسمانی بشارت اگلے ہی دن ۵ فروری ۱۹۰۶ء کو پوری ہوگئی جبکہ حضرت مولانا نورالدین صاحب بھیروی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں آپ کے نکاح کا اعلان کیا۔یہ عید الا منجیہ کا دن تھا۔اس طرح یہ دن جماعت کے لئے دوہری خوشیوں کے لانے کا موجب بنا۔بچنا نچہ اس مبارک تقریب پر مدیر الحکم " حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے حسب ذیل نوٹ شائع کیا :- "سعید میں عید" " دار فروری ۱۹۰۶ء کا مبارک دن ہمارے لئے دوسری خوشی کا موجب ہوا ایک تو اس دن عید الضحی تھی ہی مگر اس عید میں عید ہوگئی لینے میرے محترم و مخدوم زاده جنب پیر محمد الحق صاحب خلف الرشید حضرت میر ناصر نواب صاحب کی شادی صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب کی دختر نیک اختر صالحہ خاتون سے قرار پائی اور اسی مبارک دن میں بعد نماز ظہر و عصر جو جمع کی گئی تھیں مسجد اقصی میں حضرت امام حجتہ الاسلام کے حضور نکاح پڑھا گیا۔خطبہ نکاح حسب معمول حضرت حکیم الامت نے بڑے جوش اور اخلاص سے پڑھا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کے متعلق تو کچھ کہنے کی حاجت نہیں اِس لئے کہ کوئی احمدی شاذ ہی ایسا ہو گا جس کو یہ علم نہ ہو کہ میر صاحب قبلہ حضرت ام المؤمنین علیہا السلام کے والد ماجد ہونے کا شرف رکھتے ہیں اور آپ کی سیادت اور نجابت پہ اللہ تعالیٰ کی وجی نے شہادت دی ہے۔علاوہ اس تعلق کے جو حضرت مسیح موعود سے میر صاحب ممدوح کو ہے آپ جناب خواجہ میرور و صاحب علیہ الرحمہ مشہور ولی اللہ کے نبیرہ ہیں۔ایسا ہی صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب لو دریانہ کے مشہور و معروف سلسلہ نقشبندیہ کے پیشوا صوفی احمد جان صاحب مرحوم کے چھوٹے صاحبزادہ ہیں اور صالحہ خاتون ماں کی طرف سے اپنے جسم میں حضرت آدم بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا خون رکھتی ہے۔حضرت آدم بنوری مشہورا کا ہر سے گذرے ہیں جن کے کے حضرت مجدد الف ثانی کے خلفاء میں آپ کا مقام بہت بلند ہے پہلے شاہی شکر میں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)