تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 89 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 89

A مارے سہمے رہے۔آگے اب ہر وقت دن رات سخت گبھراہٹ ہے۔چاروں طرف سے ہی آواز میں آتی ہیں کہ ہم احمدیوں سے گھروں کو توڑیں گے اور آدمیوں کو شہید کر دیں گے یا | جماعت احمدیہ ویر و والہ کے سیکر ٹڑی مال محمد ابراہیم صاحب نے اطلاع موضع ویر و والہ دی کہ : ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم احمدیت چھوڑ دیں۔جب ہم نے یہ قبول نہ کیا نب لوگ جا سکے چیمہ اور آلو مہار سے احرار کا جلوس لے آئے۔۔۔۔۔اور کہنے لگے کہ تم احمدیت کو خیر باد کہ دو ورنہ سارا گاؤں مل کر تمہارا خاتمہ کر دے گا ہم نے کہا کہ اگر ہمارے سمجہ بچہ کو آپ لوگ شہید کر دیں گے تو ہم پھر بھی یہ بات کہنے کو تیار نہیں ہوں گے۔اس کے بعد انہوں نے کہا۔اچھا کل ہم تم کو مار دیں گے الخ لے سمبڑیال | جناب خواجہ محمد امین صاحب نے سمبڑیال سے لکھا کہ : بعض مهاجر احمدی مستورات نے بعض مردوں سے زیادہ دلیری دیکھائی ہے مختاریاں زوجہ محمد الدین سکنہ شکار یا چھیاں حال سمبڑیال اور حسن بی بی ہیوہ صابر خان مرحومہ ہمارے گھر پر آئیں۔ان کو صحابہ وصحابیات کی مثالیں دے کر سمجھایا گیا تو اس قدر دلیر ہو گئیں کہ بالکل مرنے کو تیار ہو گئیں۔البخ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ سے مریم سید نذیر حسین صاحب نے منڈیکے میریاں۔وہ - لکھا۔نین کے تو روئے پرسکہ آج تک جو شہری ہم تک پہنچی ہیں جو ہماری تحقیق میں درست ہیں عرض خدمت ہیں۔موضع منڈ کے بیریاں جو چونڈہ کے قریب ہے وہاں چوہدری محمد ابراہیم صاحب احمد ی کو جو صرف ایک ہی گھر احمدیوں کا ہے۔لوگوں نے جمع ہو کر قتل کی دھنگی دی۔اس نے کہا مجھے صرف چند منٹ اجازت دے دو۔پھر قتل کر لینا۔اس کے چاہ پر ایک چھوٹی سی بیبت الذکر ہے۔اس نے وضو کر کے دو رکعت نماز گزاری۔بعد میں ان کو کہا کہ آٹا اپنا کام سے اس کار ڈیرہ 19 مارچ ۱۹۵۳ کی مہر ثبت ہے۔کے دنات ۲ جولائی ۱۹۵۵ء