تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 88
AA ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرو۔ورنہ ہم قتل کر دیں گے۔اور پھر پڑکر گھٹنا شروع کر دیا لیکن پھر بھی ہماری طرف سے انکار کیا گیا۔آخر کار وہ لاچار ہو کر چلے گئے۔زیادہ خطرہ ہو جانے کے باعث ہم نے محقانہ پھلورہ میں اطلاع دی کہ ہمیں نا جائزہ (طور پر) تنگ کیا جا رہا ہے۔تھانیدار صاحب مع تین سپاہیوں کے گاؤں میں آئے لیکن انہوں نے کچھ بھی نہ کیا بلکہ مخالفت کی آگ کو اور بھڑکا یا گیا اور تھانیدار صاحب کی موجودگی میں انہوں نے جلوس نکالا۔جلوس میں انہوں نے جو گندا چھالا اور حضرت مسیح موعود۔۔۔۔کے متعلق جو نازیبا الفاظ استعمال کیے میری زبان زیب نہیں دیتی کہ میں ان کو قلم بند کروں مگر پھر بھی بغرض اطلاع اتنا لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود۔۔۔۔۔۔کی مصنوعی لاش بنا کر سخت بے حرمتی کی گئی جس کو دیکھ اور سن کر حضور اقدس کے ماننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔اسی وقت سجدہ میں گر کر دعا کی گئی کہ اے خدا تو ان لوگوں کو ہدایت دے گا الخ موضع ترسکه موضوع تریسکہ تحصیل ڈسکہ کی جماعت احمدیہ کے پریذیڈنٹ غلام غوث صاحب نے مورخه اار مارچ ۹۵۳ہ کو اپنے ایک خط میں لکھا کہ : - ور ہمارے علاقہ میں شورش بہت زیادہ ہے۔گاؤں گاؤں میں جلوس نکالے جاتے ہیں احمدیوں کے گھروں کے آگے بکو اس کرتے اور نعرے لگاتے ہیں۔کل مار مار پچ کو ہمارے گاؤں میں بھی مولوی۔۔۔ساکن ہوانہ۔۔۔۔نے جلوس نکالا۔چار احمدیوں نے کمزوری دکھائی مگر۔۔۔۔۔۔ان کی بیویوں نے بہت اچھا نمونہ دکھایا۔انہوں نے کہا کہ ہم کو طلاق دے دو۔ہم احمدیت نہیں چھوڑیں گی۔آج کچھ سکون ہے مگر ہمارا پانی گاڑی والوں نے روک رکھا ہے۔باہر کے کنووں سے لاتے ہیں۔الخ پھر ۱۲ ما سرچ کے خط میں تحریر کیا۔مولوی۔۔۔۔۔ساکن ہوانہ تھا نہ ڈسکہ و مولوی۔۔۔۔ساکن و ہیر کے نے ہمارا پانی بند کر دیا۔اب ہم بڑی مشکل سے باہر کے کنووں سے پانی لاتے ہیں۔ہماری عورتوں کو ڈر کی وجہ سے قضائے حاجت جانے کی بھی سخت تکلیف ہے اور - ار مارچ کو مولوی۔۔۔۔۔نے آکر جلوس نکالا۔گلیوں اور احمدیوں کے گھروں کے رسامنے) نعرے لگاتے اور پیٹتے رہے جس سے ہمارے چھوٹے بچے ڈر کے