تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 87 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 87

AL بلکہ نمبر داروں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ جلوس نکالیں۔تھانیدار نے میرے رو بر دلوگوں کو کہا کہ ہمیں جلوس کو روکنے کا حکم نہیں ورنہ ایک دن میں جتھے روک دیئے جاویں۔سنا گیا کہ دولتانہ کیطرف سے خاص آدمی ہدایات لے کر افسران کے پاس آتے تھے اور گوجرانولہ کا ڈی سی تو خود ملوس کے ہمراہ ہو کر نعرے لگاتا تھا۔اگر چہ لوگ اس کو بھی گالیاں نکالتے تھے۔خاکسار فضل اللی از ملیا نوالہ متصل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کریم بشیر احمد صاحب ولد سلطان احمد صاحب درویش نے لکھا کہ :۔دیگری پر یاں | و بندہ ایک ایسے گاؤں میں آباد ہے کہ جو دو اڑھائی سو مسلم جائوں کی آبادی پرمشتمل ہے گاؤں کے معتبر آدمی گرفتار ہونے کی وجہ سے باقی لوگ سخنت جوش میں ہیں اور دن بدن زیادہ تکلیف کا موجب بن رہے ہیں۔یہاں ہماری زمین وغیرہ کوئی نہیں۔معمولی سی دکان پر گزارہ ہے لیکن اب بیس دن سے دکان بالکل بند ہے۔پانی بالکل بند ہے۔دُور سے لانا پڑتا ہے۔۔۔۔۔ان حالات میں جبکہ ہماری ہر طرف سے ناکہ بند ی ہے ایک منٹ بھی یہاں گزارنا مشکل ہے۔۔۔۔۔باہر اندر جانا سخت خطرہ کا موجب ہے۔رات دن اپنے گھر پر ہی بیٹھ کر وقت گزار رہے ہیں ، الخ اسی گاؤں کے ایک اور احمدی محمد منیر صاحب نے لکھا :۔اس گاؤں میں ہم صرف دو گھر تھے۔ان (مخالف ) لوگوں نے ہم مارچ سے ہمارا پانی بند کر دیا ہے یہاں تک کہ ایک غیر مسلم کے کنویں سے بھی پانی نہیں لینے دیتے تھے اور اگر ہم پیاس کی شدت کی وجہ سے پانی لینے جاتے تھے تو ہمیں گالیاں دی جائیں۔ڈرایا دھمکایا جاتا جس کی وجہ سے ہمیں واپس گھر خالی لوٹنا پڑتا۔جب ہم گھر آتے تو بچوں کی یہ حالت ہوتی تھی کہ وہ پیاس کی شدت کی وجہ سے رو رہے ہوتے۔۴ تاریخ کو ہمیں بالکل اندر بند کر دیا گیا۔ہمارے قتل اور لوٹنے کے منصوبے بنائے گئے جس کی وجہ سے ہمیں از حد پریشان ہو نا پڑا۔ہمارے پاس سوائے دعا کے کوئی ہتھیار نہ تھا جس کو ہم استعمال کرتے۔اگر کبھی پاس کی جماعت کوشش بھی کرتی تو سخت (محاصرہ) کے باعث وہ (کوئی چیز نہ پہنچا سکتے تھے۔14 مارچ بروز جمعہ گاؤں کے شہر بہ لوگوں کی ایک پارٹی جو را فرادر پشتل متقی ہمارے دروازہ پر آئی۔اور یہیں عبور کیا گیا کہ مہاسے