تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 83
۸۳ خانہ دار روزانہ شام کو ہمیں بلاتے اور ٹی پیسٹری کھلاتے۔دن بھر کی کارگزاری سُنتے اور اگلے دن کی ہدایات دیتے تھے اور یہ سب تحریک ڈسکہ میں ان ہی دو صاحبوں کی ہدایات کے ماتحت چلتی رہی مگر حیرانی ہے کہ ہماری گرفتاری کے وقت ہر دو افسروں نے ہمیں منہ بھی نہ دکھایا اور اندر سے ہی کہلا بھیجا کہ ان کو سیالکوٹ لے جائے۔حالانکہ ساری پولیس اور ساری تحصیل ہمارے ساتھ تھی مگر اس وقت کسی نے امداد نہ کی وغیرہ وغیرہ۔عام لوگ کہتے تھے کہ مولویوں نے زہر ہلاہلی شربت صندل بنا کر ہمیں پلا دیا اور حکومت کے خلاف ہمیں بھڑ کا یا۔رقمیں خود کھا گئے اور اب یہی مولوی خود معافیاں مانگ کر باہر جارہے ہیں اور ہم بلا میں پھنسے ہوئے ہیں۔چنانچہ ایک مولوی۔۔۔۔۔ڈسکہ والا مولوی۔۔۔۔۔۔چه نمره والا عام نوجوانوں کو تلقین کرتے کہ خبر دار معافی ہرگز نہ مانگا ورنہ قومی غدار کہلاؤ گے اور جب یہ مولوی علیحدہ بیٹھتے تو میرے سامنے ہی کہتے کہ بھائی نور معافی مانگ کر باہر چلیں چنانچہ موقع آنے پر سب مولویوں نے معافی مانگ کر رہائی حاصل کر لی۔جب میں جیل میں 9ار مارچ کو گیا تو وہاں معلوم ہوا کہ ۳ مارچ سے اور مارچ تک جتنے لوگ گرفتار ہوئے ان کو۔۔۔۔۔۔سپرنٹنڈنٹ جیل نے غازی اور مجاہد قرار دے کر ہر قسم کی سہولت ہتا کہ ہر بوڑھے کو پا سیر دودھ اور ایک تکیہ مکھن روزانہ ہر نوجوان کو پا سیر دودھ اور سر کشتی لڑنے والے کو پا پیر ودھ اور ایک ٹکیہ مکھن اور تیل مالش کے لیے مہیا کیا۔جاتے ہی پہلے دن نہ ردہ اور پلاؤ سے ان کی تواضع کی۔اگلے دن حلوہ کھلایا اور ان کو کہا کہ پھانسی کی کوٹھڑیوں کی طرف اور اخلاقی قیدیوں کے ورکشاپ کی طرف نہ جانا باقی سب جیل تمہاری ہے۔مزے سے رہو اور اگر کسی کو تکلیف ہو تو فوراً مجھے کہو۔سالن کو تیل کے بگھار کی جگہ مکھن کا بگھار لگتا تھا۔ان سہولتوں کے ہوتے ہوئے ان لوگوں نے سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا اس کو گندی گالیاں نکالتی مشروع کیں حتی کہ ۱۲ر مارچ سے ۱۴ر مارچ تک جیل میں خوب مہنگا مہ رہا۔گرفتاران نے جیل کے کمبل جلا دیئے۔برتن توڑ دیئے۔پھولوں والے پودے برباد کر دیئے۔جیل کے دروازے توڑ دیئے جس پر ایس پی اور ڈی سی معہ دستہ پولیس آئی اور ان لوگوں کو قابو کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب میر محمد الدین صاحب لیفٹیننٹ کرنل آئے جن کے آنے پر جیل کا انتظام نہایت اعلیٰ ہو گیا۔جیل میں ہم چار احمدی تھے۔شیخ عبد الرحمن صاحب وکیل - محمد رفیق جراح - مستری ابراہیم اور خاکسار۔جیل کے ملازم یعنی