تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 82
AV سے ۱۵ مارچ تک گھر کے دروازے بند کر کے بیٹھا مصائب کو برداشت کرتا رہا ، ار مارچ کو صبح ہی پولیس کانسٹیبل آیا کہ۔۔۔تھا بیدار تم کو بلاتے ہیں میں خوفزدہ تو تھا ہی ڈرتا ہوا گیا کہ رہے تھے لوگوں پر نکلے چلاتے ہو تھے۔اب معلوم ہو جائے گا تجھے کس طرح چلائے جاتے ہیں تم بڑے آدمی ہو۔بہت بڑے اب سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔مجھے ۲ بجے کے قریب تحصیل دار۔۔۔۔۔۔کے پیش کیا گیا تحصیلدار صاحب نے کہا کہ ڈی سی صاحب نے تمہاری بندوق ضبط کر لی ہے۔بندوق کہاں ہے میں نے جواب دیا کہ گھر پر ہے۔کہا کہ فوراً ایک رقعہ اپنے - لڑکے کے نام تحریر کرو کہ وہ ہمارے کانسٹیبل کو بندوق معہ کارتوس دے دے۔میرے رقعہ لکھ دینے پر کانسٹیبل بندوق معد کار توس لے آیا۔عشاء کی نمازہ تک میں تھانے میں رہا۔عشاء کی نماز کے بعد راؤ صاحب آئے اور کہا کہ اب کوئی کاری سیالکوٹ کو نہیں جاتی اس لیے تم جاؤ کل ۱۸ مارچ کو 9 بجے صبح تھانہ میں حاضر ہو جاؤ۔۱۸ ر مارچ کو میں وقت مقررہ پر تھا نہ حاضر ہو گیا۔قریبا پا ۲ بجے بعد دوپہر ایک کانسٹیل کے ہمراہ مجھے سیا سکوٹ بھیج دیا گیا کہ تم کو ایس پی کے پیش کرنا ہے قلعہ پر لے جاکہ ڈی سی کے حکم کے ماتحت مجھے گرفتار کر لیا گیا 19 مارچ کو میرا چالان پیرا کے ماتحت کر دیا گیا اور مجھے جیل میں بھیج دیا گیا۔جیل میں ایک نئی دنیا دیکھی۔گبھراہٹ بہت زیادہ تھی۔مجھ پر غنودگی کا اثر زیادہ تھا اور ۳۶ گھنٹہ میں ۲ تولہ میشاپ آتا تھا۔جیل میں ہی اسی تحریک کے گرفتار کئی قسم کے لوگ تھے۔مولوی لوگ کہتے تھے کہ غنڈوں نے ہماری تحریک کو ناکام بنا دیا اور غنڈے کہتے تھے مولویوں نے ہمیں دھوکہ دے کر گر فتار بلا کہ دیا۔دونوں فریقوں کی کشمکش بہت زیادہ بھی عام لوگ کہتے تھے کہ مولویوں نے حکومت سے بہت بڑی رقم کھائی ہے اور ہم کو بلا میں پھنسا دیا۔چنانچہ معلوم ہوا کہ مولویوں نے چندہ اکٹھا کرنے کی جو رسید یکھیں چھپوائی منھیں وہ ۱- ۵ ۱۰-۵۰ کی تھیں اور جب کسی سے چندہ وصول کیا جاتا تو اس کی رسید دے کہ اپنے سامنے ہی چاک کر وادی جاتی تھی کہ پولیس کے قابو نہ آجادے۔۔۔۔۔۔۔اس طرح حاجی۔۔۔۔۔سیالکوٹ والا نے ۲۴ ہزار روپیہ ہضم کیا اور اس طرح جور تم جس نے حاصل کی وہی مہضم کر گیا۔جیل میں مولوی عبدالحی اور مولوی عبد التواب ڈسکہ والے دو رات ایک ہی چکی کو ٹھڑی میں میرے ہمراہ رہے انہوں نے وہاں میرے ساتھ ذکر کیا کہ۔۔۔۔تحصیلدار اور