تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 78
جو کہ ہمارے پڑوس میں رہتی تھی اور اکثر ساگ وغیرہ قیمتاً د سے جایا کرتی تھی۔بوجہ غربت اپنا اور اپنے والدین کا پیٹ پالا کرتی تھی۔اتفاق سے شورش کے دوران میں ہمارے گھر میں ساگ لے آئی۔جب سنگ دے کر گلی میں واپس گئی تو محلہ والوں میں وہ جو تحریک کے علمبردار تھے انہوں نے اس غریب کا منہ کالا کیا اور گھر گھر یہ کہتے ہوئے پھرایا کہ دوبارہ تو ان کا فر مرزائیوں کے ہاں نہیں جاؤ گی ؟ الخے | میاں عبد الرحمان صاحب ولد امام دین صاحب قادیانی نے موضع دھید و والی ڈسکہ سے لکھا کہ : - موضع دهید و والی میں یہاں شیر محمد صاحب موچی جو احمدی نہیں اُن کو دس دن سے اندر بند رکھا ہوا ہے اُن کے پاس نہ آتا ہے نہ دانہ۔وہ چپ اندر بیٹھے ہوئے ہیں۔ڈسکہ میں میں بھی اور میرے بال بچے بھی پانچ دن مجھو کے رہے۔اس کے بعد دوسیر آٹا ملا ہے جسے ہم نے کھایا اور خدا کا شکر ادا کیا۔جناب حمید احمد صاحب دیہاتی مبلغ نے مرکز کیہ اطلاع دی کہ : - یمیا نوالہ رو ڈسکہ کے قریب موضع بمبانوالہ کی رپورٹ آئی ہے کہ وہاں آج عورتوں نے جلوس نکالا اور احمدی عورتوں کو مارا لیکن احمد می عورتوں نے کمال بہادری سے کہا کہ خواہ جان سے مار دو مگر احمدیت سے نہیں ہٹیں گی۔احمد مسعود نصر اللہ خاں صاحب نے ڈسکہ سے لکھا کہ : - مدرات ہچو ہدری محمد عبد اللہ صاحب بمبانوالہ سے آئے ہیں انہیں قتل کی دھمکی دی گئی ہے اور ان کے گھر کے سامنے دس بارہ آدمی لاٹھیوں اور کلہاڑیوں وغیرہ سے مسلم بیٹھے رہے۔عبداللہ خان صاحب اور ان کا لیڈ کا موقع پا کہ ڈسکہ آگئے ، الخ میا نوالہ جناب فضل الہی صاحب ریٹائر ڈ پوسٹماسٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں :- دو میں ضلع گورداسپور میں موضع بنی پور کا مہاجر ہوں اور آجکل موضع ملیا نوالہ لا برادر اکبر چو ہدری عبد الواحد صاحب نائب نا ظر اصلاح وارشاد ربوه