تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 77
ہیں اور کامل صبر کا نمونہ دکھارہے ہیں۔احمد می دوستوں کے پاس ان کے غیر احمد می رشتہ داروں کے وفود بار بار جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احمدی اب زندہ نہیں رہ سکتے۔اس لیے ہمارے ساتھ مل بجاؤ۔اس کے علاوہ طرح طرح کے دنیا وی لا لچھے بھی دیتے ہیں۔لڑکیوں کا لالچ، سوریہ کا لالچ نمبر یوں کا لالچے۔میرے پاس بھور خود آئے انہوں نے مجھے کمیٹی کی ممبری کی آفر بھی کی اور خرچ کرنے کا وعدہ بھی کرتے تھے۔الغرض بار بار اس طرح تنگ کیا جارہا ہے۔بعض اوقات ایک احمدی کو پندرہ سولہ آدمی اٹھا کر لے جاتے ہیں اور مسجد میں جا کہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہو جاؤ" احمدیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا ہے۔حتی کہ بھنگیوں کو بھی غلاظت اٹھا نے سے منع کیا گیا ہے۔ہماری بیت احمد یہ یہ بھی قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔مقامی حکام نے کسی قدر ضرور تعاون سے کام لیا ہے۔جو بڑا شخص جلوس میں شامل نہیں ہوتا اس کو نہ یہ دستی اٹھاکر لایا جاتا ہے۔اور شامل ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔خون اور سہراس بہت پھیلایا جاتا ہے۔کبھی کہا جاتا ہے کہ احمد می کیمپوں میں جمع کیے جار ہے ہیں۔کبھی کہتے ہیں کہ نہ بوہ جل رہا ہے اور لاکھوں پٹھان ربوہ پر حملہ کرنے آر ہے ہیں۔کبھی کہتے ہیں حکومت ابھی اعلان کرنے والی ہے وغیرہ وغیرہ جھوٹ سے از جدہ کام لیا جا رہا ہے۔ایک احمدی کو ملتے ہیں اور اسے کہتے ہیں فلاں احمدی مسلمان ہو گیا ہے تم بھی ہو جاؤ۔الخ جناب عزیز اللہ صاحب گردد اور قانونگو نے بیان دیا۔مد شورش (اختیار) کا دور نہایت ہی تکلیف دہ تھا۔میرا ، ڈیوٹی پر ڈسکہ سے گوجرانوالہ جاتے ہی لبوں کے اڈوں پر بائیکاٹ کیا جاتا۔مجبورا سائیکل پر سفر آمد و رفت کرنا پڑتا۔راستہ میں جلوس نعرے لگاتے ہوئے ملتے سخت نفرت کی نگاہ سے ہم لوگ دیکھے جاتے تھے۔بلکہ نقصان جان پہنچانے کے درپہلے بھی ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔گوجرانوالہ میں ہمارے لیے اچھوتوں کی طرح علیحدہ برتن ہوٹلوں میں رکھے گئے۔۔۔۔۔۔ڈسکہ میں ہمارا کئی ہفتہ تک مکمل بائیکاٹ کیا گیا سبزی ترکاری اور دیگر اشیائے خوردنی ہمیں قطعاً خریدنے کی بندش تھی۔عورتیں سیاپے کرتیں۔پتھر گھروں میں مارے جاتے۔احمدیت کے خلاف گندی سے گندی گالیاں دی جاتیں۔ہمارے گھروں میں کوئی عورت یا بچہ داخل نہیں ہو سکتا تھا۔سخت نگرانی رکھی جاتی نفتی۔قسمت کی ماری ایک مہاجر لڑکی