تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 73
پانی دینے سے روک دیا اور جو خاکہ دب ہمارے ہاں صفائی کر تی تھی اس کو بھی انہوں نے روکا مگر وہ چونکہ عیسائی تھی اس نے اُن کی پرواہ نہ کی اور برابر کام کر تی رہی۔نیز فساد کے دنوں میں میری بڑی لڑکی میٹرک کا امتحان دے رہی تھی۔امتحان کا سنٹر گورنمنٹ لیڈی اینڈرسن ہائی سکول میں متھا جو ہمارے گھر سے کافی فاصلہ پر تھا۔ہر روز صبح کو میں اپنی لڑکی کو لے جا کر سنٹر میں چھوڑ آتا اور بعد میں پھر واپس لایا کرتا تھا۔ایک دن جبکہ میں جا رہا تھا ایک جلوس میرے پیچھے بڑی تیزی سے آیا۔اور کسی نے کہا کہ یہ مرزائی جا رہا ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بہت دی۔میں وہیں کھڑا ہو گیا اور انہیں للکارا کہ آؤ جس نے آتا ہے۔مگر اس کے بعد پھر کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ میری طرف بڑھے۔اس طرح خدا تعالیٰ نے نصرت بالرعب سے میری جان بچالی۔الحمد لله چوہدری عبدالرشید صاحب حلقہ واٹر ورکس کا بیان ہے کہ : ایک دن شام کے وقت میرے مکان کو جبکہ میں گھر پر ہی تھا غنڈوں نے گھیر لیا۔اور آگ لگانے کی کوشش کی۔اس وقت میں اور میرے تایا چوہدری محمد علی صاحب موجود تھے۔ہمیں بے حد فکر ہوئی۔اس وقت سوائے خدا تعالیٰ کے ہمارا اور کوئی مدد گانہ تھا مریم نے اپنے امام ایدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے مکان پر رہتے ہوئے ہی اپنی جان دینے کی ٹھان لی۔مگر قربان جاؤں اس عالم الغیب پر کہ اچانک ایک جیپ کار اور ٹینک میں چند فوجی افسر اور مسلح گارد نے آکر ان تمام اشخاص کو گھیرے میں لے لیا۔اس طرح ہماری جانیں اور مکان بخیر د بخوبی بچ گئے۔ہمارے محلہ کی ایک قصائی عورت نے (جو ان دنوں نوجوانوں اور لڑکوں کو اکٹھا کر کے سہارے مکان پر پتھراؤ کرداتی رہتی تھی ) ایک دن شام کے وقت باہر کے دروانہ وں کو بہت زور سے کھٹکھٹایا۔چنانچہ میں نے دروازہ کھولنے کے لیے دروازہ کے کنڈے کو ہا تھ لگایا ہی تھا کہ اچانک میرے دل کو کسی غیبی طاقت نے روک دیا۔چنانچہ میں نے دروازہ کھولنے کی سجائے دروازہ کے اوپر جو گیلری ہے اس میں جا کر کھڑ کی کھول کر جب دیکھا تو دولڑ کے نوجوان چا تو کھوئے اس انتظار میں کھڑے ہیں کہ میں جو نہی دروازہ کھولوں وہ مجھ پر بے دریغ