تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 72
مارپیچ ۱۹۵۳ء میں جبکہ احرار ایجی ٹیشن زوروں پر بھی خاکسار نے مع اہل وعیال ( دو لڑکیاں ایک اہلیہ اور ایک میں ) سیالکوٹ چوک پوربیاں گلی پنڈتاں کا مکان نمبر ۱۷۵ جو کہ میرے نام آلات ، میں رہائش اختیار کی ہوئی تھی یکم مارچ سے ہی ہم پر اپنے پڑوس میں رہنے والے احراریوں کی طرف سے اینٹیں پڑنی شروع ہوگئی تھیں مگریم اردگر درستی باندھ کہ اوپر رضائیاں ڈالتے تھے تاکہ جو بھی پتھر آئے اُن سے ٹکرا کر گر جائے اور اس کا زور ٹوٹ جائے۔غالبا سور ما ریخ کو جبکہ گولی چل رہی تھی اور جلوس نکلا ہو ا تھا ہمارے پڑوس میں ایک احمراری مولوی رہتا تھا۔اس کے ساتھ کئی اور آدمیوں نے اپنے مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر مجھے بلایا اور کہا کہ ایک جلوس نکلا ہوا ہے جو پٹھان صفدر کو قتل کر آیا ہے اور وہ اب تمہاری طرف آرہا ہے۔اس لیے ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ آپ اسی وقت بال بچوں کو نے کر یہاں سے نکل جائیں۔بعد میں ہمیں نہ کہنا کہ خبر نہیں ہوئی۔میں نے جواب دیا کہ ادھر جلوس نکلا ہوا ہے اور دوسری طرف گولی چل رہی ہے۔ایسے حالات میں کسی طرف بھی جانے کے لیے تیار نہیں اور ہم گھر میں ہی مریں گے یا زندہ رہیں گے۔بعد میں وہ کہنے لگے تم چلے جاؤ۔عورتوں کو کچھ نہیں کیا جائے گا۔میں نے جواب دیا کہ میں عورتوں کو چھوڑ کر کسی طرف بھی نہیں جاسکتا۔پہلے یں مروں گا۔بعد میں میرے بال بچوں کی طرف کوئی دیکھے گا۔اس پر وہ چلے گئے ہتھوڑی دیر بعد ان کی عور تمیں آئیں اور انہوں نے کہا کہ اپنی جان بچانی فرض ہے۔ہمارا مشورہ یہی ہے کہ آپ "مسلمان" ہو جائیں۔میں نے جواب دیا کہ مسلمان تو ہم پہلے سے ہی ہیں۔آپ کے کلمہ میں اور ہمارے کلمہ میں ، آپ کے قرآن میں اور ہمارہ سے قرآن میں ، آپ کی نمانہ میں اور بیماری نماز میں کیا فرق ہے ؟ آپ ہر روز ہمیں دیکھتے ہیں پھر انہوں نے نیچے جا کہ دوسرے پڑوسیوں کو بتایا کہ وہ تو کوئی بات بھی نہیں مانتا۔نیچے سے سب پڑوسیوں نے مل کر ہمیں بلانا شروع کیا اور کہا کہ تم نیچے اُتر و به ور نہ نیچے سے آگ لگا دیں گے۔میں نے اوپر سے جواب دیا میری تو تمہارے ساتھ کوئی دشمنی نہیں اگر آپ لوگوں نے نہیں قتل کرنا ہے تو او پہ آجائیں۔اگر آگ لگانی ہے تو لگا دیں۔ہمارا مکان جلے گا تو ساتھ ہی آپ کا بھی جلے گا۔۔۔۔۔۔جو سقہ ہم کو پانی دیتا تھا اس کو بھی محلہ والوں نے